انوارالعلوم (جلد 12) — Page 315
انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۱۵ دنیا میں ترقی کرنے کے گھر کر دی اور آپ کے دریافت فرمانے پر سب حال کہہ کہہ ۔ سنایا۔ آپ نے اس کی ہوشیاری کو دیکھ کر اس کے لئے دعا فرمائی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود یہ کہ عرب ایرانیوں اور رومیوں جیسے تاجر نہ تھے مگر وہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ اگر میں نے مٹی بھی خریدی تو وہ سونے کے بھاؤ ہک گئی۔ لوگ زبر دستی روپیہ میرے پاس تجارت کے لئے چھوڑ جاتے تھے اور میں لینے سے انکار کرتا رہتا تھا۔ یه خدا يهِ لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ کے دوسرے معنی ہیں۔ اس میں اپنے کسی ہنر یا محنت کا دخل نہ تھا۔ اتعالی کی اپنی آواز تھی۔ جس کے ذریعہ رسول کریم میں ہم بڑھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ ۔ کے وابستگان دامن بھی بڑھتے چلے گئے۔ جیسے اگر کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو تو اس کا کوٹ، پاجامہ اور دوسرے پار چات بھی سوار ہو جائیں گے۔ ان لوگوں نے یہاں تک ترقی کی کہ ایک واقعہ لکھا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کسی علاقہ کے گورنر مقرر ہوئے۔ یہ کسری کے خزانوں کی فتوحات کا زمانہ تھا۔ جس میں ابو ہریرہ کو ایک رومال ملا جو کسری دربار میں آتے ہوئے زینت کے طور پر ہاتھ میں رکھا کرتا تھا۔ ابو ہریرہ کو جو چھینک آئی تو اس رومال سے ناک صاف کر لیا اور پھر فرمایا۔ واہ ابو ہریرہ کبھی تو وہ دن تھے کہ تو بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہو جایا کرتا تھا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ مرگی کا دورہ ہو گیا ہے تیرے سر میں جوتیاں مارا کرتے تھے اور آج یہ دن ہے کہ کسری کے رومال میں تو تھوکتا ہے۔ آہ حضرت ابو ہریرہ بہت بعد میں ایمان کے لائے تھے یعنی رسول کریم مسلم کی وفات سے صرف تین سال قبل۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے آپ مسجد سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ تا رسول کریم میں کی ہر ایک بات سن سکیں۔ اس وجہ سے ان کو بعض اوقات سات سات فاقے آ جاتے۔ لوگ سمجھتے انہوں نے کھانا کھا لیا ہو گا۔ اور ان سے دریافت نہ کرتے۔ وہ شدت بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتے اور لوگ مرگی کا دورہ سمجھ کر جوتیاں مارتے کیونکہ اہل عرب میں یہ رواج تھا۔ تو کبھی یہ حال تھا اور پھر اس قدر ترقی حاصل ہوئی کہ کسری جیسے زبردست حکمران کی زینت و آرائش کا رومال آپ کے ناک صاف کرنے کے کام آتا تھا۔ یہ لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ کی دوسری مثال ہے۔ جب رسول کریم م آگے بڑھے تو آپ کے وابستگان دامن بھی ترقی کر گئے ۔ جیسے وائسرائے کے دربار میں بڑے بڑے رؤسا اور معززین بھی بعض اوقات نہیں جا سکتے لیکن اس کا بیرا جا سکتا ہے۔ اسی طرح خدا تعالی کے انبیاء کے ساتھ تعلق پیدا کرنے والے بھی ترقی کر جاتے ہیں۔ یہی وجہ الله صلی