انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 314

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۱۴ دنیا میں ترقی کرنے کے گھر عطا کر دیں کیونکہ ان کے لئے اس نے یہ ایک ذریعہ مقرر کر رکھا ہے کہ محنت کرو اور کوشش سے مخفی باتیں معلوم کرو۔ اہلِ یورپ نے اس ذریعہ سے اس سے مدد مانگی اور اس نے ان کی دعا کو سنا۔ یعنی حکومت دولت، شهرت رُعب، شوکت سب کچھ ان کو عطا کر دیا کیونکہ انہوں نے اس ذریعہ پر عمل کیا جو ان چیزوں کے حصول کے لئے اس نے مقرر کر رکھا ہے ۔ لیکن جو شخص اس ذریعہ پر عمل نہ کرے وہ خواہ کسی دوسرے طریق سے کتنی سخت مصیبت کیوں نہ اٹھائے اور محنت کیوں نہ کرے اسے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ ایک قلند ر جو دن بھر در بدر بندر کو لئے پھرتا ہے یقینا ایک تاجر سے زیادہ محنت کرتا ہے۔ مگر اس کے برابر آمد پیدا نہیں کر سکتا کیوں؟ اس لئے کہ دولت کمانے کا جو ذریعہ خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اسے وہ استعمال میں نہیں لاتا۔ تو دنیا میں ترقی کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ بندہ خدا کو پکارے۔ یعنی ان ذرائع کو کام میں لائے جو دنیوی ترقی کیلئے خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھے ہیں۔ پھر اس آیت کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ بندہ کو نہ پکار تا تو اس کا کیا حشر ہوتا۔ بندوں کے خدا کو پکارنے کی مثال تو اہل یورپ میں دی جا چکی ہے یا ہندوستان میں ہندوؤں کی ہے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ذرائع کو استعمال کر کے ترقی حاصل کی۔ اور خدا کے بندوں کو پکارنے کی مثال اس کے نبیوں کی ہے۔ رسول کریم میں ہم گوشہ گمنامی میں پڑے تھے اور غار حرا میں عبادتیں کیا کرتے تھے۔ آپ نے وہ تمام ذرائع جو دنیوی ترقی کے ہیں؟ ترک کر رکھے تھے۔ مگر آپ کے پاس خدا تعالی کا فرشتہ آیا اور اس نے کہا اُٹھ خدا تجھے بلاتا ہے۔ اور پھر اس گوشہ گمنامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بادشاہ بنا دیا اور ایسی ترقی عطا کی کہ مذہب و ملک اور تمدن و معان معاشرت ۔ رت سب پر اپ پر آپ کا رنگ چھا گیا۔ حتی کہ آپ کے غلام یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کئے بغیر اور لیبارٹریز میں تجربات کرنے کے بغیر ہی ہر فن میں دنیا کے استاد بن گئے اور جس میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا تمام دنیا سے آگے بڑھ گئے۔ ایک صحابی کا بیان ہے رسول کریم میں سلیم نے مجھے ایک اشرفی دی کہ قربانی کے لئے بکری لے آؤ۔ میں نے سوچا مدینہ میں تو اس رقم سے ایک ہی بکری ملے گی مگر کسی گاؤں سے دو مل جائیں گی اس لئے میں نے ایک گاؤں سے ایک اشرفی میں دو بکریاں خریدیں۔ جب واپس آیا تو مدینہ میں کسی نے پوچھا کیا بکری فروخت کرو گے میں نے کہا۔ ہاں۔ اور ایک بکری ایک اشرفی میں اس کے پاس فروخت کر دی۔ پھر رسول کریم مال اللہ کے پاس جا کر بکری بھی اور اشرفی بھی پیش الله حمد غلام