انوارالعلوم (جلد 12) — Page 295
انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۹۵ امیرا بلند یث نے چیلنج مباہلہ کا جواب ہو وہ مخالف دینے سے تو اس کی سب احادیث ضعیف نہیں ہو جاتیں ۔ چنانچہ جن لوگوں نے مستدرک ابن عساکر کی مخالفت کی ہے وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حافظ ابن عساکر بڑے پائے کے آدمی تھے۔ امام ذہبی نے بہت سے آئمہ کے اقوال ان کی تعریف میں لکھے ہیں۔ چنانچہ سمعانی کا قول انہوں نے یہ لکھا ہے ۔ سمعانی کہتے ہیں کہ ثقہ ہیں، متقی ہیں، نیک ہیں اور حافظ عبد القادر کا قول نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابن عساکر جیسا حدیث کا کا ب یاد رکھنے رکھنے والا نہیں دیکھا۔ اپنے زمانہ میں محدثین کے امام تھے ۔ مگر سب سے مقدم امر تو یہ ہے کہ ان کی روایت الفاظ قرآن کے مطابق ہے اور دوسری حدیثوں کے مخالف نہیں کیونکہ جس ۔ حدیث میں زیادتی نہیں کہلاتی بلکہ اس سے مضمون کی تکمیل ہوتی ہے۔ اگر زیادتی کو مخالفت قرار دیں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مباہلہ کا واقعہ جو دوسری احادیث میں بیان ہوا سب غلط ہے۔ کیونکہ بخاری میں تو اس واقعہ کا صرف یہ ذکر ہے کہ دو آدمی نجران کے رسول کریم اس کے پاس مباہلہ کے لئے آئے تھے لیکن بعد میں ایک کے سمجھانے پر دوسرا بھی رُک گیا اور انہوں نے رسول کریم سے صلح کر لی۔ بخاری کی روایت میں نہ مباہلہ کے لئے رسول کریم کے نکلنے کا ذکر ہے۔ نہ حضرت فاطمہ" و حضرت حسن حسین کے ساتھ ہونے کا۔ پس اگر ترک ذکر شے سے عدم سے مراد ہوتی ہے تو بخاری کی روایت سے دوسری روایت کی بھی تردید ہو جاتی ہے۔ اب ایک سوال اور رہ جاتا ہے جو یہ کہ سید صاحب کو شکوہ ہے کہ میں نے نادرست شکوه ایک حوالہ نقل کرتے ہوئے اس کے ساتھ کی روایت کیوں نقل نہیں کی۔ جس میں لکھا تھا کہ رسوں کریم سال یہ حضرت علی اور اپنے بچوں اور نواسوں کو لے کر نکلے اور فرمایا - که هؤُلَاءِ أَهْلِی - یہ شکوہ درست نہیں اس لئے کہ اس حوالہ سے نہ میرے استدلال کے خلاف نہ موافق اثر پڑتا تھا اس لئے میں نے اسے نقل نہیں کیا۔ اگر یہ میرے خلاف اثر انداز ہو تا یا موافق تو میں اسے نقل کرتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں بہت بسط کے مباہلہ مسنونہ سے پس و پیش نہیں ہونا چاہئے ساتھ سید صاحب کے سوالات کا جواب دے چکا ہوں اس لئے اب انہیں مباہلہ مسنونہ سے پس و پیش نہیں ہونا چاہئے ۔ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایک کثیر جماعت ہے پس اس جماعت میں سے پانچ سو یا ہزار آدمی کا ساتھ نانا ان کے لئے مشکل نہیں۔ احمدی جماعت تو اہل حدیث سے کم ہے۔ پس جب میں