انوارالعلوم (جلد 12) — Page 296
انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۹۶ امیر اہلحدیث کے چیلنج مباہلہ کا جواب اپنے ساتھ آدمی لانے کو تیار ہوں تو انہیں بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ آخر وہ خود مانتے ہیں کہ نجران کے لوگوں میں سے ایک شخص نہیں بلکہ ایک جماعت کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا تھا اور جو بات ایک فریق کے لئے جائز ہو ، دو جائز ہو، دوسرے کے لئے بھی جائز ہونی چاہئے۔ کم سے کم ان کے اپنے بیان کے مطابق بھی یہ امر تو ثابت ہے کہ مدعی نبوت نے اپنے مقابلہ پر ایک جماعت کو بلوایا ۔ پس میں جو مدعی نبوت کا خلیفہ ہوں مجھے بھی اجازت ہونی چاہئے کہ اپنے مقابل پر ایک جماعت کو بلواؤں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اب سید صاحب تقاریر اور جماعت کے ساتھ ہونے کی شرطوں کے خلاف زور نہ دیں گے کیونکہ ان دونوں شرطوں سے فریقین پر کوئی ناجائز بوجھ نہیں پڑتا بلکہ مزید تشریح اور وضاحت ہو جاتی ہے۔ اور کوئی عقلی یا نقلی دلیل اس کے خلاف نہیں ہے۔ اگر وہ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ بچے ہیں اور احمدی جھوٹے ہیں تو تقاریر بہر حال ان کے لئے مفید ہوں گی اور بہت سے لوگوں پر حق واضح ہو جائے گا اور کئی اور لوگ شاید مباہلہ میں شامل ہونے کو تیار ہو جائیں۔ اسی طرح جماعت کی شمولیت مباہلہ کے اثر کو بڑھائے گی اور ایک جگہ کے لوگوں کے سامنے نہیں بلکہ ہندوستان کے مختلف مقامات کے سامنے مباہلہ کا اثر آ جائے گا۔ پس ایسے اعلیٰ موقع کو ہاتھ سے نہ دیں اور اپنے مریدوں کو اس ثواب کے موقع سے محروم نہ کریں۔ آخر ہماری جماعت کے لوگ بھی تو شوق سے اس مباہلہ میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے انہیں فَا ذَهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلاً إِنَّا فَهُنَا قَاعِدُونَ ٢٣ کہہ کر ان سے الگ ہو جائیں۔ وَآخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - خاکسار مردا محمود احمد ۱۹ مارچ ۱۹۳۲ء الفضل ۳۱ مارچ ۱۹۳۲ء) در منثور جلد ۲ صفحه ۳۸ مطبوعہ دار المعرفه بیروت لبنان ال عمران: ۶۲ تفسير بحر المحيط جلد ۲ صفحه ۴۷۹ مطبعة السعادة بجوار محافظ مصر