انوارالعلوم (جلد 12) — Page 294
انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۹۴ امیرا با حدیث کے چیلینج مباہلہ کا جواب ایک جواب سید صاحب نے یہ دیا ہے کہ احادیث میں صرف یہ ذکر ہے۔ کہ حضرت علی ، حضرت فاطمہ اور حسن اور حسین کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مباہلہ کیلئے نکلے تھے۔ مجھے ان احادیث سے انکار نہیں۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ساتھ ہی احادیث احادیث میں آتا ہے ۔ ھؤلاء ۲۰ اَهْلِی کو یہ میرے اہل ہیں نہ یہ یہ کہ کہ ہمارے ہمارے اہل ہیں۔ پس ہم تو کہتے ہیں کہ مباہلہ ہوا نہیں۔ اگر مباہلہ ہوتا اور دوسرے صحابہ اور ان کے اہل شامل نہ ہوتے تب ان احادیث سے استدلال ہو سکتا تھا۔ مگر مباہلہ تو ہوا نہیں، پھر استدلال کس طرح ہوا۔ اس وقت تک تو وفد نجران نے مباہلہ قبول کرنے کا اعلان ہی نہ کیا تھا۔ ہم کہتے ہیں اگر وفد نجران مباہلہ کو مان لیتا تو دوسرے لوگوں کو بھی آپ " بموجب حکم آیت جمع ہو ۔ بموجب حکم آیت جمع ہونے کا حکم دیتے ۔ آپ اس خیال سے کہ دوبارہ گھر نہ جانا پڑے اپنے اہل کو لے کر تشریف لے گئے ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ خود د بھی بھی ! اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں تسلیم کرتے کہ ان لوگوں کے سوا دو سوا دوسرے لوگ مباہلہ میں شامل نہ ہونے تھے کیونکہ آپ نے خود اس آیت کی تفسیر اہل وعیال کی ہے۔ ہے جو بیویوں پر مشتمل ہے۔ دوسرے آیت قرآنی میں نِسَاء کا لفظ ہے ۔ اور نِسَاء کا لفظ اگر محدود کیا جائے تو اول اس میں بیویوں کا مفہوم ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے ۔ يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ ال جس جگہ صرف بیویاں مراد ہو سکتی ہیں۔ پس آیت مباہلہ میں نِسَاءَ نا کے لفظ کے ماتحت بیویوں کی شمولیت لازم ہے اور احادیث میں بیویوں کا ذکر نہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں وہ سب تعداد جس نے مباہلہ میں شامل ہونا تھا نہ کو ر نہیں ہے۔ مجھ را سید صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ میری نقل کرده۔ رده روایت جس میں دوسرے صحابہ صحاب کی شمولیت کا ذکر ہے ضعیف ہے اور حوالہ کنز العمال صفحہ ۹۸ کا دیا ہے۔ سید صاحب نے افسوس تو پر کیا ہے کہ میں نے ایک ضعیف حدیث کو نقل کیا ہے لیکن افسوس در حقیقت ان پر ہے۔ کیونکہ کنز العمال میں یہ نہیں لکھا کہ یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ علامہ سیوطی کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کتاب جن میں سے تاریخ ابن عساکر بھی ہے، ان کی روایات ضعیف ہیں۔ ۲۲۔ اس کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ علامہ سیوطی کے نزدیک اس کتاب میں احتیاط سے کام نہیں لیا گیا لیکن اس کے یہ معنی تو نہیں کہ اس میں کوئی حدیث بھی درست نہیں۔ اس میں کئی احادیث ایسی ہیں جو صحاح ستہ میں ہیں بلکہ صحیحین میں بھی موجود ہیں اور بہت سی حدیثوں پر مسلمان عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ محض کسی شخص کے کسی کتاب کو ضعیف کہہ