انوارالعلوم (جلد 12) — Page 293
انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۹۳ ا میرا بعد میت کے چلینج مباہلہ کا جواب میں پھر کہتا ہوں کہ کسی قاعدہ کا ہونا اور بات ہے اور اس کا کسی خاص جگہ پر چسپاں ہونا اور بات ہے۔ کیا اس قاعدہ کے مطابق ہم قرآن کریم کی تمام ضمائر کو مشاکلت کے ماتحت مفرد سے جمع اور جمع سے مفرد بنا سکتے ہیں ؟ آخر استثنائی قاعدہ کو چسپاں کرنے کی بھی تو کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ جب الفاظ آیت سے ثابت ہے کہ اس جگہ ضمائر اپنے اصلی مفہوم میں ہیں تو سید صاحب کا بیان کردہ مشاکلت کا قاعدہ بھی یہاں چسپاں نہیں ہو سکتا۔ جب آیت ہی دوسرے معنوں کو رد کر رہی ہے تو خلاف منطوق معنی کرنے جائز ہی نہیں ہو سکتے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں دو صیغے دو جماعتوں کے لئے استعمال ہوئے ہیں ایک "قل " رسول کریم میم کے لئے اور ایک تَعَالُوا " آپ ۱ آپ کے مخالفوں کے لئے اب مشاکلت کا قاعدہ اگر سید صاد صاحب کے بیان کے مطابق ہی سمجھا جائے تو بھی چاہئے تھا کہ جو ضمائر رسول کریم ملی ایم کے متعلق آئیں ، مفرد آتیں، کیونکہ پہلا لفظ مفرد تھا۔ واحد سے مشاکلت جمع کو کس طرح ہو سکتی ہے۔ اور اگر سید صاحب یہ کہیں کہ چونکہ ابناء اور نِساء کا لفظ جمع ہے۔ اس لئے نا آیا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ انفس کیوں جمع آیا اس صورت میں تو یہ ماننا پڑے گا کہ انفس اس لئے جمع آیا کہ نساء کا لفظ جمع تھا اور نا اس لئے جمع آیا کہ انفس جمع تھا۔ گویا پہلے ایک لفظ کو مشاکلت سے جمع کیا، پھر اس کے مضاف الیہ کو اس کی مشاکلت کی وجہ سے جمع کیا۔ اب اس فرضی جواب کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مشاکلت کا قاعدہ عربی زبان میں اس طرح نہیں جس طرح سید صاحب نے ذکر کیا ہے ۔ مشاکلت کی تعریف علم البدیع والوں نے یہ کی ہے۔ کہ ذِكْرُ الشَّيْ بِلَفْظِ غَيْرِهِ لِوُقُوعِهِ بِصَحْبِهِ ذَلِكَ الْغَيْرَ وَلَوْ تَقْدِيرًا۔ 19 یعنی کسی چیز کے لئے بجائے اصل لفظ کے دوسرا لفظ استعمال کریں اس لئے کہ وہ چیز ایک اور چیز کے پاس واقع ہوتی ہے۔ پس اس دوسری چیز کی مناسبت سے اس کا نام بدل دیا گیا۔ مثال یہ دی ہے کہ قُلْتُ اطْبَخُو ا لِي جُنَّةً وَ قَمِيصًا ۔ میں نے کہا۔ میرے لئے ایک مجتبہ اور ایک قمیض پکا دو ۔ مجبہ اور قمیض پکائے نہیں جاتے۔ چونکہ پہلے شخص نے کہا تھا کہ ہم تیرے لئے کیا پکائیں اس کو لباس کی ضرورت تھی اس نے کہا کہ مجبہ اور قمیض پکا دو۔ یعنی مجھے کپڑے کی ضرورت ہے۔ اس تعریف سے ظاہر ہے کہ ضمائر کے بدلنے کا مشاکلت سے کوئی تعلق نہیں۔ مشاکلہ تو یہ ہے کہ ایک بات کو زیادہ مؤثر بنانے کے لئے ایک پاس کے لفظ کے مطابق ایک دوسرا لفظ استعمال کر لیا جائے۔