انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxiii of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxxiii

انوار العلوم جلد ۱۳ تعارف کتب (۱۹) افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۱ء ۲۶ دسمبر ۱۹۳۱ء کو جلسہ سالانہ کا افتتاح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ کسی مذہبی تقریب کا بہترین افتتاح کلام الہی سے ہی ہو سکتا ہے جو ابھی پڑھا گیا ہے اس لئے اب مل کر دعا کر لی جائے کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو بابرکت بنائے ، ہمارے کاموں میں برکت ڈالے اور سب احباب کوا۔ ب جماعت کو اپنے افضال سے نواز ۔ نوازے۔ آمین اس کے بعد دعا ہوئی ۔ دعا کے بعد حضور نے دوستوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ جلسہ کے ایام کو صحیح طور پر استعمال کریں ۔ عبادات ذکر الہی اور دعاؤں پر زور دیں کیونکہ خاص مقام اور خاص ایام کی عبادتیں اور دعائیں اپنے اندر خاص برکات رکھتی ہیں ۔ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :۔ ” خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فضل نازل کرنے اور انہیں اپنا قرب عطا کرنے کیلئے ان کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باعث برکات اور انوار کے خاص اوقات اور خاص مقامات مقرر کر دئے ہیں ایسے مقامات میں سے سب سے اول درجہ کا مقام مکہ ہے اور وہاں کی خاص برکات حاصل کرنے کیلئے خاص ایام بھی مقرر ہیں ۔ دوسرا مقام مدینہ ہے وہاں کیلئے کوئی خاص ایام مقرر نہیں ۔ انسان جب چاہے وہاں جا سکتا ہے۔ اس سے اُتر کر قادیان کا مقام ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے ۔ زمین قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے آخر میں حضور نے احباب کو توجہ دلائی کہ اجتماع کے موقع پر بعض دفعہ چھوٹے بچے گم ہو جاتے ہیں یا اغوا کر لئے جاتے ہیں اس کا بھی سد باب ہونا چاہئے ۔ فرمایا کہ:۔ بچوں کا اغوا بدترین مجرم ہے ۔ اس مجرم کا ارتکاب کرنے والوں کا خواہ وہ کسی مذہب اور قوم کے ہوں مقابلہ کرنا چاہئے ۔