انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 237

انوار العلوم چند ۱۳ ۲۳۷ تحریک آزادی شهید أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ برادران ریاست جموں و کشمیر کے نام میرا آٹھواں خط وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَ مجھے اپنے ساتویں خط کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ اس پر بعض دوستوں کو اعتراض ہے۔ چنانچہ اس بارہ میں ایک دو خط بھی مجھے جموں سے ملے ہیں اور ایک دوست جو گذشتہ جلسہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی میں جموں کے نمائندوں میں سے شامل ہوئے تھے انہوں نے بھی ان غلط فہمیوں کا ذکر کیا تھا جو اہلِ جموں کے دلوں میں اس بارہ میں پیدا ہو رہی ہیں۔ (1) وہ غلط فہمیاں یہ ہیں۔ گلینسی کمیشن نے اچھی رپورٹ نہیں لکھی اور بلاوجہ اس کی تعریف کر دی گئی ہے۔ (۲) بعض امور میں گلینسی رپورٹ نے پہلے سے بھی بدتر حالات پیدا ت پیدا کر دیئے ہیں ۔ (۳) ارتداد کا مسئلہ نہایت اہم مسئلہ تھا۔ اس کو میں نے اپنے خط میں بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ (۴) وائسرائے اور مہاراجہ صاحب کی خوشنودی کو مسلمانوں کی خیر خواہی پر مقدم رکھا گیا ہے۔ (۵) جب تک وہی حالت نہ پیدا ہو جائے جو انگریزی ہندوستان کے باشندوں کی ہے اس جد و جہد کو نہیں چھو ڑنا چاہئے۔ (۲) ان سفارشات پر عمل نہ ہو گا۔ ہے ابھی : مجھے ان اعتراضات کو سن کر تعجب بھی ہوا اور حیرت بھی۔ انسان کا حافظہ کس قدر کمزور ں چند ماہ ہوئے ان اعتراض کرنے والوں میں سے کئی اس سے بھی کم اختیارات کو بڑی