انوارالعلوم (جلد 12) — Page 238
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۳۸ تحریک آزادی کشمیر کامیابی سمجھتے تھے۔ آج کلینسی رپورٹ ان کی نگاہوں میں حقیر نظر آتی ہے۔ میں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے کلینسی کمیشن کی رپورٹ کو کلی طور پر تسلیم نہیں کیا نہا یا نہ ارتداد کے مسئلہ پر مسئلہ پر خاموشی کی ہے نہ اہے نہ جد و جہد بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ میرے خط پر ایک نگاہ ڈالنے سے ثابت ہو سکتا ہے کہ میں گلینسی رپورٹ کو ناقص سمجھتا ہوں۔ ارتداد کے مسئلہ کو اہم اور آئندہ جد و جہد کو ضروری بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ خود مختار حکومتوں میں کی جدوجہد کا جاری رہنا ضروری ہوتا ہے جس دن ۔ دن یہ جدو جہد بند ہو اسی دن غلامی کی روح قوم میں داخل ہونے لگتی ہے اور بظاہر آزاد نظر آنے والی قوم باطن میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جاتی ہے۔ بھی آزادی کی دن سے میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ ہے کہ گلینسی ر ی رپورٹ میں بہت سے امور مسلمانوں کے فائدہ یہ کہ ارتداد کے کے ہیں۔ اگر مسلمان ان سے فائدہ اٹھائیں تو بہت بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور یہ کہا مسئلہ کے متعلق اور دوسرے امور کے متعلق جو ناقص ہیں ہم جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ لیکن جو اچھا کام کلینسی کمیشن نے کیا ہے اس کے بارہ میں ہمیں شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اور اس کے ذریعہ سے جو طاقت ہمیں حاصل ہوئی ہے اس سے کام لے کر ترقی کی نئی راہیں نکالنی چاہئیں۔ اور جدوجہد کو کامیاب بنانے کیلئے حالات کے مطابق اس کی صورت بدل دینی چاہئے۔ میں نے چھ لکھا اس پر اب اس پر اب تک قائم ہوں اور میرے نزدیک کشمیر کے لوگوں کا اس میں فائدہ ہے۔ میں نے یہ کام لوگوں کی خوشنودی کیلئے نہیں کیا تھا کہ ان کے اعتراض سے ڈر جاؤں میں نے بلا غرض یہ کام کیا ہے اور بلا غرض ہی اسے جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ اگر میں لوگوں کے اعتراض سے ڈر کر اس بات کو چھوڑ دوں جو میرے نزدیک حق ہے تو میں یقینا خود غرض ہوں گا اور میرا جو سب پہلا کام برباد ہو جائے گا۔ وائسرائے صاحب کو خوش کرنا یا مہاراجہ صاحب کو خوش کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ میں مہاراجہ صاحب سے کبھی نہیں ملا اور نہ اس وقت تک خواہش ہے جب تک کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کے متعلق دباؤ سے نہیں بلکہ دلی رغبت سے غور کرنے کو تیار نہیں۔ سر ہری کشن کول صاحب نے مجھے متواتر مہاراجہ صاحب سے ملنے کی دعوت دی لیکن میں نے نہیں مانا اور یہی اصرار کیا کہ مہاراجہ صاحب مسلمانوں کے حقوق کے متعلق میرے ساتھ گفتگو کرنا چاہیں تو میں مل سکتا ہوں ورنہ نہیں۔ یہ خط و کتابت میرے پاس محفوظ ہے ان کی