انوارالعلوم (جلد 12) — Page xxv
انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۶ تعارف کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے عہد میں ایک شخص سید محمد شریف صاحب ساکن گھڑیالہ ضلع نے لاہور جن کا دعویٰ تھا کہ وہ امیر اہل - ما حدیث پنجاب ہیں نے آپ کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ انہوں ۔ تاریخ مباہلہ اور مقام مباہلہ بھی خود ہی مقرر کر دیئے ۔ یہ چیلنج ملتے ہی حضور نے اس کے جواب میں یکے بعد دیگرے تین مضامین الفضل میں شائع کروائے ۔ حضور نے فرمایا کہ مباہلہ کی یہ تجویز مجھے منظور ہے تا ہم مباہلہ کی تاریخ اور مقام کوئی ایک فریق از خود مقرر نہیں کر سکتا۔ اس لئے تاریخ ، مقام اور دیگر تفصیلات فریقین کے نمائندے ملکر طے کریں ۔ اس سلسلہ میں حضور نے اپنی طرف سے محترم مولوی فضل الدین صاحب وکیل اور محترم مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو اپنے نمائندے مقرر فرما دیا ۔ نیز تحریر فرمایا کہ قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ کے مطابق مباہلہ سے پہلے فریقین ایک دوسرے پر اتمام حجت کیلئے تقریر کریں اور اپنے متبعین میں سے کم از کم پانچ سو افراد کو بھی مباہلہ میں شامل کریں ۔ حضور کا یہ مطالبہ اسلامی تعلیم کے با عین مطابق تھا اور اس پر پر تم عمل ضروری روری تھا تھا۔ ۔ لیکن سید محمد شریف صاحب اس بات پر اڑ گئے اور مباہلہ سے گریز اختیار کرنے لگے ۔ اس پر حضور نے اپنے مضمون محرره ۱۲ جولائی ۱۹۳۱ ء کو اپنے موقف کو قرآن وحدیث کی روشنی میں درست ثابت کیا اور تفصیل سے اس کے حق میں دلائل تحریر فرمائے ۔ لیکن افسوس کہ سید صاحب اپنے بلند بانگ دعاوی کے با وجود اپنی غلط ہٹ پر قائم رہے اور آخر دم تک انہیں میدان میں آنے کی جرات نہ ہوئی ۔ (۱۱) مومنوں کیلئے قربانی کا وقت ۱۹۲۸ء سے کساد بازاری ار دیگر وجوہات کی بنا پر دنیا کی مالی حالت خراب ہو رہی تھی ۔ ہندوستان پر بھی ان حالات کا اثر تھا ۔ نتیجتا احباب جماعت بھی متاثر ہوئے اور جماعتی چندوں پر اس کا اثر پڑا۔ ماہرین اقتصادیات کا اندازہ تھا کہ یہ حالت مزید چند سالوں تک جاری رہے گی ۔ ان حالات میں حضور نے ضروری سمجھا کہ جماعت کو ہوشیار کر کے مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی جائے تا کہ وہ بوقت ضرورت سلسلہ کی امداد سے پیچھے نہ رہ جائیں ۔ احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے حضور نے ۲۳۔ اگست ۱۹۳۱ء کو تحریر فرمایا کہ :۔