انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiv of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxiv

انوار العلوم جلد ۱۳ ہوئے فرمایا :۔ ۱۵ تعارف کتب میں نے جہاں تک غور کیا ہے جب تک عورتیں ہمارے کاموں میں شریک نہ ہوں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ زیادہ تر امور ایسے ہیں جن میں عورتوں کا سوال پیش آتا ہے۔ اسی طرح تربیت اولاد کا سوال ہے جو عورتوں سے خاص طور پر تعلق رکھتا ہے اور یہ حل نہیں ہو سکتا جب تک عورتیں تعلیم یافتہ نہ ہوں اور یہ کام ان کے سپرد نہ کر دیا جائے ۔“ (۱۰) امیر اہلحدیث کے چیلنج مباہلہ کا جواب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کسی مامور کی صداقت پر کھنے کا آخری طریق ” مباہلہ بیان کیا ہے۔ یعنی اگر مخالفین زبردست دلائل اور عظیم الشان نشانات دیکھنے کے باوجود خدا کے مامور پر ایمان نہ لائیں تو فریقین اپنے جھگڑے کو خدا تعالیٰ کی عدالت میں پیش کر کے اس کا فیصلہ حاصل کریں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ كَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاء كُمُ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلُ لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ۔ (آل عمران : ۲۲) کہ اگر کوئی شخص تیرے پاس یقینی علم آ جانے کے بعد بھی تم سے اس بارہ میں بحث کرے تو تو اسے کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو پھر عاجزی کرتے ہوئے اللہ کو پکاریں یعنی دعائے مباہلہ کریں اور اللہ کی لعنت جھوٹوں پر ڈالیں ۔ قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ کے منکرین نے دلائلِ بینہ کے باوجود آپکی تکذیب اور مخالفت کو نہ چھوڑا تو انہیں مباہلہ کا چیلنج دیا۔ لیکن حق کے رعب کی وجہ سے وہ مقابل پر نہ آئے اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نصاری مباہلہ کرتے تو ایک سال کے اندر سب ہلاک ہو جاتے۔ نبی کریم ﷺ کی اسی سنت کی پیروی میں حضرت بانی سلسلہ احمد یہ اپنے وقت میں مخالفین کو مباہلہ کیلئے بلاتے رہے لیکن ان میں سے کوئی میدان میں نہ آیا۔