انوارالعلوم (جلد 12) — Page xxvi
انوار العلوم جلد ۱۲ 14 تعارف کتب سب ترقیات خواہ روحانی ہوں یا جسمانی قربانیوں کے ساتھ وابستہ ہیں اور قربانیاں بھی وہ جو عام طور پر لوگوں کو متزلزل کر دیتی ہیں ۔ پس جب تک اس حد تک ہماری جماعت کی قربانیاں نہ پہنچیں حقیقی ترقیات نہیں ہو سکتیں ۔ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر دی تھی ضرور ہے کہ ایسے سامان پیدا ہوں جن کی امداد سے ہماری جماعت کو ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ چند سال سے ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں اور مجھے نظر آتا ہے کہ ہماری جماعت کو مالی قربانیاں اس حد تک کرنی پڑیں گی جو واقع میں دل کی طہارت اور روح کی ترقی کا موجب ہو سکیں ۔“ نیز فرمایا: اصل ایمان یہی ہے کہ انسان مشکلات کے وقت میں بھی اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرے کیونکہ اس وقت تو اسکے امتحان کا وقت آتا ہے ورنہ کشادگی میں تو لوگ تماشوں اور کھیلوں پر بھی بڑی بڑی رقوم خرچ کر دیتے ہیں ۔ (۱۲) دنیا میں ترقی کرنے کے گر یہ تقریر حضور نے ۲ استمبر ۱۹۳۱ء کو بعد نماز مغرب مسجد احمد یہ سیالکوٹ میں فرمائی ۔ قرآن مجید کی آیت قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۔ ( الفرقان : ۷۸ ) کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول تو ان لوگوں کو سنا دے کہ تمہارے رب کو تمہاری پر واہ کرنے کی کیا ضرورت ہے اگر تمہاری طرف سے دعا کا سلسلہ جاری نہ ہو۔ فرمایا کہ لؤلاً نے دُعاؤكُمْ کے دومعنی ہیں یعنی اگر خدا تعالی تم کو نہ پکارے اور یہ کہ اگر تم اس کونہ پکارو حضور نے وضاحت فرمائی کہ اگر پہلے معنی لئے جائیں تو اس صورت میں اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر اس نے اپنی طرف سے یہ لازم نہ کر لیا ہو کہ میں تمہیں پکاروں گا یعنی بڑھاؤں گا اور ترقی دوں گا تو تم کچھ نہیں کر سکتے ۔ اس نے خود بطور احسان اپنے پر یہ واجب کر رکھا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری کیا پرواہ ہے اگر تم عاجزی اور انکساری کے ساتھ