انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiii of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxiii

انوار العلوم جلد ۱۲ تعارف کتب اور پھر انکے علاج اور حل پر سیر حاصل بحث فرمائی ۔ آپ نے زمینداروں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب سودی قرض کو قرار دیا اور فرمایا کہ اس وقت زمینداروں پر ایک ارب تمیس کروڑ روپیہ کا قرض ہے جو وہ اپنی ساری زمینیں فروخت کر کے بھی ادا نہیں کر سکتے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ متفق ہو کر فیصلہ کر لیں کہ چونکہ سود خور لوگوں کے موجودہ قرض نہایت ظالمانہ شرائط پر دیئے گئے ہیں اس لئے جو شخص اپنے قرض سے دُگنا ادا کر چکا ہے وہ اپنے آپ کو قرض سے سبکدوش سمجھ لے۔ حضور نے فرمایا :۔ اگر ایک تحصیل کے آدمی بھی اس کام کو کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو دائمی غلامی سے بچانے پر آمادہ ہوں تو میں اس بات کا ذمہ لیتا ہوں کہ میں ایسی تفصیلی سکیم ان کے سامنے پیش کر سکتا ہوں جس پر وہ عمل کر کے قرض سے نجات پاسکتے ہیں۔ اگر اس قسم کی کوئی تجویز زمینداروں نے نہ کی تو ان کو یا د رکھنا چاہیئے کہ وہ اور انکی اولا دیں کبھی بھی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتیں ۔“ آخر میں حضور نے مندوبین کا نفرنس سے اپیل کی کہ وہ آپ کے پیش کردہ خیالات پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور قابل عمل باتوں پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں کیونکہ تکالیف باتوں سے دور نہیں ہو سکتیں بلکہ عمل سے دور ہوتی ہیں ۔ (۹) لڑکیوں کی تعلیم و تربیت ۔ جماعت کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کیلئے عورتوں کا تعلیم یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس اہم ضرورت کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جماعت کے اندر تعلیم نسواں کی طرف خاص توجہ دی ۔ قادیان میں گرلز ہائی سکول کا اجراء اچھے نتائج دے رہا تھا ۔ اب گرلز کالج کی ۔ ضرورت تھی لیکن الگ کالج کیلئے ابھی وسائل میسر نہ تھے ۔ ان حالات میں حضور کے ارشاد کے مطابق ہائی سکول میں ہی ایف۔ اے کلاس شروع کر دی گئی ۔ یہ مختصر تقریر حضور نے اس کلاس کے افتتاح کے موقع پر یکم جولائی ۱۹۳۱ء کو ارشاد فرمائی ۔ حضور نے تعلیم نسواں کی اہمیت واضح کرتے