انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xxii

انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۳ تعارف کتب جب تک کہ انکو اپنے حقوق حاصل نہ ہو جائیں خواہ اس کیلئے کتنا عرصہ لگے اور خواہ مالی اور خواہ کسی وقت جانی قربانیاں بھی کرنی پڑیں ۔ الفضل قادیان ۱۰ جنوری ۱۹۳۲ء ) (۸) زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل جنگ عظیم اوّل کے بعد ملک میں اجناس کی قیمتوں میں لگا تارکمی کی وجہ سے زمینداروں کی میں لگا اقتصادی حالت کمزور ہوتی گئی یہاں تک کہ دس بارہ سال کے عرصہ میں ان کے حالات ایسے دگرگوں ہو گئے کہ ان میں سے اکثر اپنی ساری پیداوار فروخت کر کے بھی معاملہ اور آبیانہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے تھے۔ ان حالات میں وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے ساہوکاروں سے بھاری سود پر قرض لینے پر مجبور ہوتے جسکی وجہ سے انکی مالی حالت مزید خراب ہوتی گئی اور وہ سخت مشکلات سے دوچار ہو گئے ۔ زمینداروں کی ان مشکلات کا تجزیہ کر کے کوئی حل سوچنے کیلئے ہیں واکیس جون ۱۹۳۱ء کو پنجاب کے شہر لائل پور ( حال فیصل آباد ) میں ایک زمیندارہ کا نفرنس منعقد ہوئی۔ اس کا نفرنس کی اہمیت کے پیش نظر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یہ پر مغز مضمون تحریر فرمایا۔ اپنی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرما۔ ہیں :۔ بوجہ اس کے کہ میں خود زمیندار ہوں اور ہزار آدمی میری جماعت کے اس علاقہ میں بستے ہیں جس کی طرف سے یہ کانفرنس منعقد ہوئی ہے مجھے آپ لوگوں کے اجتماع کے مقاصد سے پوری دلچسپی اور ہمدردی ہے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ جس خلوص نیت سے میں آپ لوگوں کو اپنے علم اور تجربہ کے مطابق اپنی اقتصادی حالت کی درستی کی طرف توجہ دلاؤں گا اسی خلوص نیت کے ساتھ آپ لوگ بھی میری باتوں پر غور کریں گے خواہ ان میں سے بعض باتیں آپ کے موجودہ خیالات کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں ۔“ ،، حضور کا یہ اہم مضمون محترم مولانا مولانا ابو العطاء صاح ء صاحب جالندھری نے کانفرنس میں پڑھ کر سنایا جسے بہت پسند کیا گیا۔ الفضل ۴ جولائی ۱۹۳۱ء ) حضور نے اس مضمون میں زمینداروں کے مسائل اور مشکلات پر تفصیل سے روشنی ڈالی XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX