انوارالعلوم (جلد 12) — Page 179
انوار العلوم جلد ۱۳ 149 تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مسلمانان کشمیر کی فوری ضروریات اگر آپ آج امداد نہیں کرتے تو کل پچھتائیں گے مسلمانان کشمیر کی بے نظیر مسلمانان کشمیر کی قربانیاں اور مسلمانان ہند کی ہمدردی قربانیوں اور اس کے ساتھ مسلمانان پنجاب و دیگر صوبہ جات ہند کی ویسی ہی بے نظیر ہمدردی ایک ایسا دل خوشکن نظارہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل کو خوشی کے جذبات سے لبریز کر رہا ہے اور وہ لوگ جو صورت حالات سے آگاہ اور واقف ہیں جانتے ہیں کہ قربانی کے ان شاندار مظاہروں کے نتیجہ میں اللہ تعالٰی کے فضل سے مسلمانان کشمیر کی غلامی کی زنجیریں کٹنے والی ہیں اور مسلمانان ہند کی عظمت ان کے مخالفین کے دلوں میں قائم ہو رہی ہے۔ لیکن اس خوشی کے وقت میں ہمیں ایک بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جو یہ ہے کہ جنگ ابھی جاری ہے اور ایک تھوڑی سی غفلت اور مستی فتح کو شکست میں بدل سکتی ہے۔ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صدر ہونے مسئلہ کشمیر کی موجودہ حالت اور اس کا اقتضاء کے لحاظ سے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ تمام مسلمانوں کو کھول کر اس وقت کی حالت بتا دوں۔ اس وقت ریاست کی طرف سے دو کمیشن مقرر ہیں۔ ایک مڈلٹن کمیشن فسادات کی وجہ اور ذمہ داری دریافت کرنے کے لئے اور ایک گلینسی کمیشن مسلمانوں کی تمام شکایات اور حق تلفیوں کی تحقیقات کے لئے۔ ان دو کمیشنوں کے علاوہ ایک کثیر تعداد مقدمات کی جموں و کشمیر اور میرپور میں مسلمانوں کے خلاف زائر ہے۔ ان تینوں کاموں کے لئے اور مسلمان مظلومین کی امداد کے لئے جن میں مقتولین کی بیوائیں اور بتائی اور مأخوذین کے غریب رشتہ دار شامل ہیں اور ہندوستان اور انگلستان میں پراپیگنڈے کے لئے ایک کثیر رقم کی ضرورت ہے۔