انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 148

انوار العلوم جلد ۱۳ الله تحریک آزادی کشمیر لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک اخبار کا تو زور توڑ دیا ہے اور دوسرا اخبار انشاء اللہ ان کے ہاتھ فروخت نہیں ہو سکے گا۔ مسلمانوں کا زور توڑنے کی تدابیر مسئلہ کشمیر کی وجہ سے مسلمانوں کا زور توڑنے کے لئے ریاست کے ایماء پر یا اپنے طور پر کچھ اور تدابیر بھی اختیار کی جارہی ہیں۔ جن میں سے بعض یہ ہیں ۔ (۱) کشمیری مال کا بائیکاٹ کر کے ۔ تمام پنجاب میں اندر ہی اندر یہ تحریک کی جا مخالفانہ تدابیر رہی ہے کہ کشمیری مال چونکہ بدیشی تا گایا بدیشی کپڑا سے تیار ہوتا ہے اس لئے اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ یہ جواب ہے بعض مسلمانوں کی اس تحریک کا کہ ریاستی کارخانہ کے ریشم کو نہ خریدا جائے۔ (۴) ریاست کے تعمیری پروگرام کو بند کر کے۔ تاکہ مسلمان ٹھیکیدار معطل ہو جائیں اور مالی نقصان اُٹھائیں۔ (۳) مسلمان کاریگروں کا بائیکاٹ کرکے۔ یہ سب کام اس طرح ہو رہے ہیں کہ ان مخالفانه تدابیر کا جواب دینے کی ضرورت میں ریاست کا ہاتھ نظر نہ آئے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں ریاست اس میں شامل ہے۔ اور اس کا جواب دینے کی مسلمانوں کو ضرورت ہے۔ (۱) کشمیری مال جو مسلمانوں کا تیار کردہ خرید کر (۲) بیکار مزدوروں اور کاریگروں کو کام دے کر (۳) خصوصیت کے ساتھ ان کارخانوں کا مال بند کر کے جو ان ہندو افسروں کی ملکیت ہیں جو اس کام میں نمایاں ہیں۔ مثال کے طور پر میں دیکھتا ہوں کہ کول خاندان کی بنائی ہوئی دیا سلائیاں پنجاب میں کثرت سے بکتی ہیں۔ اگر مسلمان ان کو خرید نا بند کر دیں تو اس سے ان کارخانہ داروں کو معلوم ہو جائے گا کہ بائیکاٹ کی تلوار دو دھاری ہوتی ہے اور صرف ایک ہی طرف نہیں کاٹتی۔ میں امید کرتا ہوں کہ مختلف شہروں کے پُر جوش مسلمان اور مسلمان دوکانداران امور کو اپنے ہاتھ میں لیں گے کیونکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اس قسم کے کام اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی کیونکہ اس کی توجہ تعمیری اور اصلی کام سے ہٹ کر دو سری طرف لگ جاتی ہے۔ ایک اہم نقص موجودہ کام میں یہ ہو رہا ہے کہ اہالیان کشمیر کی طرف سے انکوائری کمیٹی کوئی انتظام مسلمانوں کی تکالیف کی تحقیق کے متعلق نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ -