انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 149

انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۴۹ تحریک آزادی کشمیر یہ ہو رہا ہے کہ افواہیں بہت کثرت سے پھیلتی رہتی ہیں۔ یہ افواہیں بعض دفعہ مفید ہوتی ہیں اور بعض دفعہ مضر بھی ہوتی ہیں۔ پس فائدہ کو دیکھ کر ان کے ضرر سے ہمیں غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اور چاہیئے کہ مجلس نمائندگان کشمیر ایک تحقیقاتی کمیٹی مستقل طور پر تحقیقاتی کمیٹی کا کام مقرر کر دے جس کا یہ ا یہ کام ہو کہ جب کوئی شکایت مسلمانوں پر ظلم کی ان کے سننے میں آئے۔ خواہ ریاست کی طرف سے ہو خواہ دوسرے لوگوں کی طرف سے وہ اس کی باقاعدہ تحقیقات کرے اور عدالتوں کی طرح جرح کر کے اور گواہیاں لے کر مسل مکمل کرے اور پھر اس سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو اور پریس کو مطلع کرے۔ اس طرح ایک تو افواہوں کا سد باب ہو جائے گا۔ دوسرے نمائندگان کشمیر کی وقعت مہذب دنیا میں بہت بڑھ جائے گی کہ وہ کوئی بات غیر ذمہ دارانہ طور پر نہیں کرنا چاہتے اور ان کی بات اس قدر پکی سمجھی جائے گی کہ اس کی تردید کی کسی کو جرأت نہ ہو سکے گی۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ریکارڈ مکمل ہوتا چلا جائے گا۔ اب یہ نقص ہوتا ہے کہ ایک صریح ظلم کے خلاف شور مچایا جاتا ہے لیکن بوجہ شہادت محفوظ نہ ہونے کے کچھ دن کے بعد اس واقعہ کے یا تو شاہد ہی نہیں ملتے اور اگر شاہد ملیں تو انہیں شہادت یاد نہیں رہتی۔ بیرونی مدد سے گھبرانا نہیں چاہئے ریاست کے بعض باشندے اس بات کے کہنے سے گھبراتے ہیں کہ باہر کے لوگ ان کی امداد کرتے ہیں۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ مدد اور تحریک میں فرق ہے۔ مدد اور تحریک میں فرق اگر باہر والوں کے اکسانے سے کثیر باہر والوں کے اکسانے سے کشمیر میں شورش ہو تو بیشک یہ عیب ہے۔ لیکن اگر اندر کی شورش اور ظلم دیکھ کر باہر والے روپیہ اور مشورہ سے مدد کرنے کے لئے آجائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس قسم کی مدد سے یا اس کا اقرار کرنے سے اہالیان ریاست کے کام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ خود ریاست بھی تو باہر کے لوگوں سے مدد ریاست باہر والوں سے مدد لے رہی ہے لے رہی ہے۔ کئی آدمی اس اس نے باہر سے