انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 147

انوا را العلوم جلد ۱۲ ۱۴۷ تحریک آزادی کشمیر پس جو لوگ اس مسئلہ سے ہمدردی رکھتے ہیں انہیں ، جلد امدادی رقوم بھجوائی جائیں جلد سے جلد اپنے علاقوں میں چندہ کر کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے حساب میں مسلم بنک آئی انڈیا لاہور کے پتہ پر بھیجوانا چاہئے۔ جو لوگ بنک کو بھیجنے میں دقت محسوس کریں ، وہ براہ راست ست سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی قادیان کے نام بھجوا دیں۔ مگر انسب پہلا ہی پتہ ہے۔ اگر سیکرٹری کے نام بھیجیں تو رسید ضرور منگوا لیں۔ ہندوستان اور دوسرے ممالک میں پروپیگنڈا بعض لوگ ہندوستان اور دوسرے ممالک میں پروپیگنڈا کو ضرورت پروپیگنڈا غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔ لیکن یہ خیال ان کا غلط ہے۔ ہندوستان کی حکومت بہر حال کشمیر پر نگران ہے اور اس کے اعلیٰ حکام کی رائے کو اگر اپنی تائید میں حاصل کر لیا جائے تو یقینا اس سے بہت کچھ فائدہ ہو سکتا ہے اور ہوا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کی حکومت حکومت برطانیہ کے ماتحت ہے اگر انگلستان میں زبردست پروپیگنڈا کیا جائے تو یقیناً اس کا اثر حکومت ہند پر پڑے گا اور وہ زیادہ ہوشیاری سے حکومت کشمیر کی نگرانی کرے گی اور اس طرح بہت تھوڑی قربانی سے وہ کام ہو سکے گا جو دوسری صورت میں بہت بڑی قربانی کو چاہتا ہے۔ اس امر کا مزید ثبوت کہ یہ ایک اہم کام ہے یہ ہے کہ خود پروپیگنڈا کی اہمیت کا ثبوت ریاست اس کی عظمت کو قبول کرتی ہے۔ چنانچہ باہر سے لوگوں کو بلا کر ان پر اثر ڈالنا، اخبارات کے نمائندوں کو خریدنے کی کوشش کرنا حکومت ہند کے پاس بااثر لوگوں کو بھجوانا، ولایت میں پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کے لئے ایجنٹ مقرر کرنا یہ سب امور اس کو ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست اس تجویز کے مؤثر ہونے کو قبول کرتی ہے اور اسے بے اثر بنانے کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کو تیار ہے۔ چنانچہ مجھے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ہندوستانی لیڈر کے ذریعہ سے ریاست نے انگلستان میں ایک شخص کو چھ سو روپیہ ماہوار کے قریب معاوضہ دینے کا وعدہ کر کے ہمارے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کی تحریک کی ہے اور انگلستان کے دو زبر دست اخبارات کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی تجویز کی ہے۔