انوارالعلوم (جلد 12) — Page xix
انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۰ i تعارف کتب جنہیں کشمیریوں سے کسی قسم کی ہمدردی نہیں ۔ سپاہی مزدوروں سے کتوں کا سا سلوک کرتے ہیں اور انہیں اس طرح پیٹتے ہیں جیسے کوئی بوجھ اُٹھانے والے جانوروں کو پیٹتا ہے۔“ کشمیری مسلمانوں کے یہ نا گفتہ بہ حالات تھے جنہیں دیکھ کر حضرت خلیفہ المسیح الثانی بیقرار ہو گئے اور پھر ان کی راہنمائی اور مدد کیلئے لگا تار یہ مضامین لکھے جن کا سلسلہ روز نامہ الفضل قادیان میں ۱۶ جون ۱۹۳۱ء تا ۲۵ - اکتوبر ۱۹۳۳ ء جاری رہا۔ ابتدائی مضمون میں حضور فرماتے ہیں :۔ میں متواتر کئی سال سے کشمیر میں جو مسلمانوں کی حالت ہو رہی ہے اس کا مطالعہ کر رہا ہوں اور لمبے مطالعہ اور غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوا ہوں کہ جب تک مسلمان ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار نہ ہوں گے یہ زرخیز خطہ جو نہ صرف زمین کے لحاظ سے زرخیز ہے بلکہ دماغی قابلیتوں کے لحاظ سے بھی حیرت انگیز ہے کبھی بھی مسلمانوں کیلئے فائدہ بخش تو کیا آرام دہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا ۔“ کشمیری مسلمانوں کی ہمدردی اور بہبود کی خاطر لکھے گئے اپنے ان مضامین کے سلسلہ میں حضور نے ایک اور موقع پر فرمایا :۔ ماہ مئی (۱۹۳۱ء) میں میں نے بعض مضامین ایسے پڑھے جن میں مسلمانان جموں پر سختی کرنے کا ذکر تھا۔ میں کشمیر میں کئی دفعہ جا چکا ہوں ۔ وہاں کے مسلمانوں کی درد ناک حالت کا مجھے علم تھا جس کی وجہ سے میرے دل میں زخم تھا اور یہ خواہش دل میں رہتی تھی کہ خدا تعالی توفیق دے تو ان کی مدد کی جائے ۔ جب میں نے مسلمانان ریاست پر سختی کے حالات پڑھے تو وہ جوش اُبل پڑا اور میں نے مضامین لکھے ۔“ ( الفضل ۱۰ جنوری ۱۹۳۲ء ) حضور نے نہ صرف یہ مضامین لکھے بلکہ جب کشمیری مسلمانوں پر سختی مزید بڑھی اور سرینگر میں ان پر گولیاں چلائی گئیں تو آپ ان کی حمایت میں عملی طور پر قدم اُٹھانے کیلئے بے قرار ہو گئے ۔ آپ نے ہندوستان کے مسلمان لیڈروں کو مفصل خطوط لکھے ۔ کشمیریوں کی حمایت کیلئے انکے ضمیر کو بیدار کیا اور انہیں مشورہ کیلئے شملہ بلایا ۔ اس اجلاس میں کشمیر کمیٹی قائم کی گئی ۔ ڈاکٹر