انوارالعلوم (جلد 12) — Page xviii
انوار العلوم جلد ۱۲ ۹ تعارف کتب فرمایا کہ میں اس لئے ان مزاروں پر دعا کرتا ہوں کہ ان بزرگوں کی روحیں جوش میں آئیں تا ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں کی نسلیں اس نور کی شناخت سے محروم رہ جائیں جو اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کیلئے بھیجا ہے۔ یقیناً ایک دن آئے گا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو کھول دے گا اور وہ حق قبول کر لیں گے ۔ حضور نے فرمایا کہ مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ ہر فرد کو دعوت الی اللہ میں لگ جانا چاہیئے ۔ ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ ہمیں علم نہیں ۔ دین کیلئے ظاہری علم کی ضرورت نہیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے ہمیں اسلام پہنچایا وہ بڑے عالم نہ تھے لیکن وہ ایران پہنچے، چین پہنچے غرضیکہ اطراف واکناف میں پہنچے۔ اور جہاں گئے وہاں عالموں کو زیر کیا ۔ یہ وہ نور تھا جو خدا نے انہیں بخشا تھا ۔ اور اس نور کو لے کر وہ جس طرف نکلے خدا نے انہیں کامیابی عطا کی۔ یہی طریق ہے جس پر عمل کر کے آپ کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ (۷) تحریک آزادی کشمیر ریاست جموں و کشمیر برصغیر ہند و پاک کا ایک نہایت اہم علاقہ ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً چوراسی ہزار مربع میل ہے۔ آبادی کی غالب اکثریت یعنی تین چوتھائی (3/4) مسلمان ہے ہے۔ ۔ جو صدیوں سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہندوستان میں مغلیہ دور کے زوال پر ریاست کشمیر کی حکومت سکھوں کے ہاتھ میں آ گئی۔ اس دور میں مسلمانوں پر انتہائی مظالم روا رکھے گئے ۔ جب ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ہو گیا تب بھی انہوں نے کشمیری باشندوں کی بہتری اور ترقی کیلئے کوئی کام نہ کیا بلکہ انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح صرف پچھتر لاکھ روپیہ کے بدلے راجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ ڈوگرہ راج میں مسلمانوں کی حالت مزید انحطاط پذیر ہوئی اور انکی حالت جانوروں سے بدتر بنا دی گئی۔ چنانچہ ایک مشہور انگریز کرنل اے ڈیورنڈ اپنی کتاب میکنگاف اے فرنٹیر (Making Of A Farontier) میں لکھتے ہیں :۔ تمام افسر اور سپاہی یا تو ڈوگرہ قوم سے ہیں یا دوسرے ہندوؤں سے کہ