انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xx of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xx

انوار العلوم جلد ۱۳ 11 تعارف کتب محمد اقبال صاحب کی تجویز اور سر فضل حسین صاحب اور دیگر سب لیڈران کی تائید اور پیہم اصرار پر حضور نے کشمیر کمیٹی کا صدر بننا قبول فرمالیا اور کام شروع کر دیا ۔ اپنی خداداد ذہانت اور فراست ام لیکر حضور نے تھوڑ نے تھوڑے عرصہ میں ہی ریاست کے اندر اور باہر مسلمانوں میں ایک غیر معمولی سے کام میلر بیداری پیدا کر دی جس کے نتیجہ میں حصول حقوق اور آزادی کیلئے ہلچل مچ گئی ۔ ایک مضمون میں حضور نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر ہمیں کشمیر و جموں کے مسلمانوں کی آزادی کے سوال کو حال کرنا مطلوب ہے تو اس کا وقت اس سے بہتر اور نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے نتیجہ میں قدرتی طور پر انگلستان اپنے قدم مضبوط کرنے کیلئے ریاستوں کو آئندہ بہت زیادہ آزادی دینے پر آمادہ ہے۔ اگر اس وقت کے آنے سے پہلے جموں و کشمیر کے مسلمان آزاد نہ ہو گئے تو وہ بیرونی دباؤ جو جموں اور کشمیر ریاست پر آج ڈال سکتے ہیں کل نہیں ڈال سکیں گے ۔“ مسلمانوں کو موافق حالات سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور اپنے ایک اور مضمون میں تحریر فرماتے ہیں :۔ اس وقت غلامی کے خلاف سخت شور ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ کشمیر کی لاکھوں کی آبادی بلا قصور غلام بنا کر رکھی جائے آخر غلام اسی کو کہتے ہیں جسے روپیہ کے بدلے فروخت کر دیا جائے ۔ اور کیا یہ حق نہیں کہ کشمیر کو روپیہ کے بدلہ میں حکومت ہند نے فروخت کر دیا تھا۔ پھر کیا ہمارا یہ مطالبہ درست نہیں کہ جبکہ انگریز عرب اور افریقہ کے غلاموں کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ان غلاموں کو بھی آزاد کرائیں جن کی غلامی کا سبب وہ خود ہوئے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں ہر ایک دیانتدار آدمی اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہوگا۔ کشمیریوں کی آزادی کے بارہ میں حضور کے ان مضامین کی شان ایسی تھی کہ الفضل کے علاوہ لاہور کے بعض اخبار انقلاب وغیرہ بھی انہیں شائع کرتے رہے۔ جس کے نتیجہ میں ہندوستان کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک لوگوں میں کشمیر کے مسلمانوں سے ہمدردی کا احساس پیدا ہو گیا اور وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی ہر طرح امداد کرنے کیلئے تیار ہو گئے ۔ XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX