انوارالعلوم (جلد 12) — Page xvii
انوار العلوم جلد ۱۳ تعارف کتب بہت سی خوبیاں ہیں۔ لیکن شکوہ ہمیں اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی کثیر التعداد قوم سے ہمارا مقابلہ ہو ۔ اُس وقت حکومت کے بعض افسران انصاف کی جگہ سیاسی نقطہ نگاہ سے حالات کو دیکھنے لگتے ہیں۔ اور زیادہ تعداد رکھنے والے لوگوں کی ناراضگی سے بچنے کیلئے عدل و انصاف چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بعض برطانوی افسران نے اور نگ زیب جیسے نیک بادشاہ کے خلاف مضمون لکھوا کر اور سیوا جی کی تعریف کر کے بہت غلط کام کیا ہے ۔ فرمایا :۔ ور وہ خیال کر رہے تھے کہ ہم اور نگ زیب کو بُرا بھلا کہلوا کر اور سکول کے کورسوں میں اس کی مذمت لکھوا کر ہندوستان کے ماضی کو مٹا رہے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہندوستان کا بے حد چالاک پنڈت اس ذریعہ سے اپنے لئے ایک شاندار مستقبل تیار کر رہا ہے اور برطانیہ کی ہندوستانی حکومت کے عین دل پر اسی طرح خنجر مار رہا ہے جس طرح سیوا جی نے افضل خان کے دل پر خنجر مارا تھا ۔“ حضور نے فرمایا کہ ہم اپنے بزرگوں کی عزت اور احترام کی حفاظت کیلئے پورا زور لگا ئیں گے اور حکومت اور آریہ لوگوں کو مجبور کر دیں گے کہ وہ اپنا رویہ بدلیں ۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ آ کہ آئندہ کیلئے حضرت بانی سل سلسلہ احمدیہ اور مسلمانوں کے دوسرے بزرگوں اور بادشاہوں کی عزت کی حفاظت کرے۔ (۶) جماعت احمد یہ دہلی کے ایڈریس کا جواب مئی ۱۹۳۱ء میں حضور دہلی شریف لے گئے ۔ جماعت احمد یہ دہلی کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حضور نے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ دہلی کی جماعت اچھا کام کر رہی ہے تاہم انہیں اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہیئے ۔ اگر وہ خدتعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اخلاص سے کام کریں گے تو اللہ تعالی انکی جدوجہد میں برکت دے گا اور جماعت کو بڑھا دے گا ۔ فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لائے تھے تو آپ یہاں کے اولیاء اللہ کے مزاروں پر بھی گئے اور ان پر لمبی دعائیں کیں ۔ آپ نے XXXXXXXXXXXXXXXXX XXXXXXXXXXXX