انوارالعلوم (جلد 12) — Page 75
انوار العلوم جلد ۱۳ ۷۵ گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب نے ان کی اصلیت کو بے نقاب کرنا چاہا ہے تو حکومت اس میں دخل دیتی رہی ہے۔ لیکن یہ بے اصولا پن ہے اور اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ حکومت بعض موقعوں پر عدل اور انصاف کے ماتحت نہیں بلکہ ضرورت اور ذاتی اغراض کے ماتحت کام کرتی ہے۔ اگر یہ نہیں تو حکومت اس امر میں امتیاز کر کے دکھاوے کہ کیوں سیوا ؟ اجی کو بُرا کہنے پر وہ قانون کو جنبش دیتی ہے لیکن اورنگ زیب کو بُرا کہنے پر کچھ نہیں کہتی اور کیوں وہ سیواجی کے خلاف لکھنے والوں پر اظہارِ ناراضگی کرتی ہے جب کہ وہ بھگت سنگھ کی تائید میں جو یقیناً سیوا جی سے بڑھ کر محب وطنی کے جذبہ سے معمور تھا مضمون لکھنے والوں کو ملک کے امن کا برباد کرنے والا قرار دیتی ہے۔ یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اگر سیواجی اور سیوا جی اور بھگت سنگھ کا مقابلہ بھگت سنگھ کا مقابلہ کیا جائے تو بھگت سنگھ یقینا سیوا جی سے زیادہ محب وطن کے جذبات سے معمور تھا کیونکہ سیواجی کو لوٹ مار کی بھی خواہش تھی جو بھگت سنگھ کو نہ تھی۔ سیواجی کو احتمال تھا کہ اگر میں جیتا تو ملک کا بادشاہ ہو جاؤں گا لیکن بھگت سنگھ جانتا تھا کہ میں انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے میں کامیاب بھی ہو جاؤں تب بھی حکومت گاندھی جی اور نہرو جی کے قبضہ میں جائے گی اس کے نام صرف شاباش ہی شاباش لکھی جائے گی۔ سیوا جی جانتا تھا کہ وہ بھی اور نگ زیب کی طرح تلوار چلا سکتا ہے اور مقابلہ کر کے ہوس نکال سکتا ہے۔ لیکن بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اسے چوری چھپے حملہ کرنے کے سوا بر سر پیکار آنے کا موقع میتر نہیں۔ سیواجی کے پیچھے اس کی قوم کی امداد تھی اور بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اس کی قوم کے بزدل مخفی طور پر شاباش دینے کے سوا اس کی کوئی امداد نہیں کریں گے ۔ بلکہ ظاہر میں اس کے فعل سے براء ت کا اظہار کرتے رہیں گے۔ سیوا جی جانتا تھا کہ مسلم بادشاہ اپنی قدیم روایات کے مطابق اس سے نرمی کا سلوک کرے گا۔ بھگت سنگھ جانتا تھا کہ اسے انگریزی قانون کے ماتحت ایک فوجی کی موت مرنے کا بھی موقع نہیں دیا جائے گا بلکہ ایک مجرم کی موت مرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ سب سے آخر میں یہ کہ سیوا جی اُس بادشاہ کے مقابل پر کھڑا ہوا تھا جس نے ہندوستان کو اپنا وطن بنا لیا تھا اور جسے غیر ملکی بادشاہ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ لیکن بھگت سنگھ ایک غیر ملکی حکومت کے خلاف کھڑا تھا۔ پس ان سب امتیازوں اور ان کے علاوہ اور بہت سے امتیازوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سیوا جی یقیناً بھگت سنگھ سے بہت اونی تھا اور اگر اس کا فعل