انوارالعلوم (جلد 12) — Page 76
انوار العلوم جلد ۱۳ ८५ گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب قابلِ تعریف تھا اور اس کے خلاف لکھنا جرم ہے تو یقینا بھگت سنگھ کا فعل اس سے سینکڑوں گئے زیادہ قابل تعریف ہے اور اس کے خلاف لکھنا اور بھی جرم ہے۔ ملک حقیقت یہ ہے کہ ملک معظم کے ان معظم کے بعض نمائندوں کی غداری نمائندوں میں سے جو ہندوستان میں مقرر ہیں بعض نے اورنگ زیب کے خلاف مضمون لکھوا کر اور سیواجی کی تعریف کر کے اس اعتماد کو جو ملک معظم نے ان پر کیا تھا غلط ثابت کر دیا ہے اور حکومت برطانیہ سے غداری کی ہے اور فسادات اور بغاوت کا ایسا دروازہ کھول دیا ہے کہ کانگریس پر بھی اس سے بڑھ کر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ خیال کر رہے تھے کہ ہم اور نگ زیب کو بُرا بھلا کہلوا کر اور سکول کے کورسوں میں اس کی مذمت لکھوا کر ہندوستان کے ماضی کو مٹا رہے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہندوستان کا بے حد چالاک پنڈت اسی ذریعہ سے اپنے لئے ایک شاندار مستقبل تیار کر رہا ہے اور برطانیہ کی ہندوستانی حکومت کے عین دل پر اسی طرح ایک منجر مار رہا ہے جس طرح سیواجی نے افضل خان کے دل پر خنجر مارا تھا۔ سچ ہے چاہ کن را چاه در پیش۔ اورنگ زیب کا بدلہ حکومت برطانیہ نے لینے سے مسلمانوں کا گورنمنٹ سے مطالبہ انکار کر دیا تھا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے بدلہ لیا اور بہت عبرتناک طور پر لیا۔ یعنی سیوا جی کو بھگت سنگھ کے بھیس میں کھڑا کر کے حکومت سے اس کے رویہ کی خدمت کروادی اور اس کی پالیسی کی غلطی کا اس سے اعتراف کروالیا۔ لیکن مسلمانوں کا حق ابھی موجود ہے وہ حق رکھتے ہیں کہ حکومت سے یہ مطالبہ کریں کہ یا تو اورنگ زیب اور دوسرے مسلمان بادشاہوں کے خلاف بے معنی پروپیگنڈا کو بند کروایا جائے کہ جو اول انگریزوں نے شروع کیا اور اب اسے مہاسبھائی ذہنیت کے ہندو جاری رکھے جا رہے ہیں۔ یا پھر مسلمان یہ سین ہے۔ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں گے کہ حکومت کے نزدیک بھگت سنگھ کا یہ فعل بھی قابلِ تحسین اور اگر بعض لوگ اپنی اولادوں کے دلوں میں اس نیک فعل کی یاد تازہ رکھنے کے لئے بھگت سنگھ کی بری منایا کریں تو یقینا مسلمان ان سے ہمدردی رکھیں گے ۔ لیکن کیا حکومت اس فعل کو جائز رکھے گی ؟ قتل اور بغاوت بہر حال قتل اور سیواجی اور بھگت سنگھ دونوں قاتل اور باغی تھے بغاوت ہیں خواہ گورنمنٹ