انوارالعلوم (جلد 12) — Page 74
انوار العلوم جلد ۱۳ ۷۴ گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب پس میرے نقطہ نگاہ کے مطابق پنڈت لیکھرام کو لیکھو لکھنا لیکھو نام والدین نے رکھا ہرگز خلاف اخلاق نہیں کیونکہ ان کا نام ان کے والدین نے سے ظا لیکھو ہی رکھا تھا جیسا کہ لالہ منشی رام جی المعروف سوامی شردھانند جی کی تحریر کردہ سوانح عمری ظاہر ہے۔ سوامی شردھانند پنڈت لیکھو رت سیلو صاحب سے بڑی حیثیت کے آدمی تھے اور خودان کی پارٹی کے تھے اور پھر ان کے ہم وطن تھے۔ پس ان کی تحریر کو دشمن کی تحریر نہیں کہا جا سکتا اور ان کی شہادت اس لئے زیادہ معتبر ہے کہ انہوں نے یہ بات پنڈت لیکھو صاحب کے چچا سے سن کر لکھی ہے۔ پس اب آریہ صاحبان اور حکومت کے لئے اصولاً صرف ایک ہی راستہ کھلا ہے کہ وہ یہ ثابت کر دیں کہ سوامی شردھانند جی نے جو کچھ لکھا ہے عداوت سے اور جھوٹ لکھا ہے۔ تب بے شک وہ ہم سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ پنڈت لیکھرام کو لیکھرام لکھا کرو اور اگر وہ ایسا ثابت کر دیں تو گورنمنٹ سے پہلے میں الفضل کو تنبیہہ کروں گا۔ لیکن اگر سوامی شردھانند جی نے سچ لکھا ہے اور پنڈت جی کا نام لیکھو ہی تھا تو لیکھو کو لیکھو لکھنے پر وار ننگ دینے میں حکومت نے نہایت بے انصافی سے کام لیا ہے اور اس پر شور مچانے والے آریوں نے حماقت ہے۔ مسیح موعود کا نام والدین نے کیا رکھا اب اوپر کی بات کو سمجھ کر آریہ اخبارات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مرزد لکھیں یا غلمو یا سندھی جیسا کہ انہوں نے نوٹس دیا ہے۔ لیکن اگر انہیں شرافت انسانی سے کوئی بھی حصہ ملا ہے تو انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام ان کے والد نے غلام احمد نہیں بلکہ مرز و یا غلمو رکھا تھا غلام احمد بعد میں انہوں نے خود یا ان کی جماعت نے رکھ لیا۔ اگر وہ یہ ثابت کر دیں گے تو ہمیں ہرگز ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا بلکہ ہم انہیں حق بجانب سمجھیں گے۔ میں نے اپنے خطبہ میں ایک اور امر کی طرف بھی توجہ دلائی اسلامی بادشاہوں کی ہنگ تھی کہ مسلمانوں کے بزرگوں کی طرح مسلمانوں کے بادشاہوں کے خلاف بھی ہندوؤں کا ایک طبقہ خصوصاً آریہ بد کلامی اور دشنام دہی سے کام لیتا رہتا ہے لیکن حکومت اس طرف توجہ نہیں کرتی۔ لیکن اسلامی بادشاہوں کے باغی جو بھگت سنگھ وغیرہ کے طریق پر چلتے رہے ہیں جیسے سیواجی وغیرہ ۔ جب بعض اسلامی اخبارات