انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 71

انوار العلوم جلد ۱۲ توجہ دلانے کے اس کی اصلاح نہیں ہوئی۔ اے گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب ہم اس قدر ممنون ضرور ہیں کہ کہ احمدی جماعت کو اس گورنمنٹ کا قابل تعریف فعل عکس حریف میں ٹیکس سے بری رکھا گیا ہے اور اسی طرح قادیان کے دوسرے باشندوں کو بھی اور میں اس ناراضگی کے وقت میں بھی گورنمنٹ کے اس فعل کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن یہ امر ایسا تھا جس میں کسی دوسری قوم کی ناراضگی کا سوال نہ تھا اور یہ میں مانتا ہوں کہ جب سیاسی پالیسی کا سوال نہ ہو اُس وقت انگریز افسر ہندوستانی سے زیادہ اعتماد کے قابل ہوتا ہے اور باجود ان لوگوں کے بُرا منانے کے میں اس خوبی کے اعتراف سے باز نہیں رہ سکتا۔ ہمارا شکوه ہمیں اگر شکوہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت جب کہ کسی کثیر التعداد قوم کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہوتا ہے اس وقت حکومت کے بعض افسران انصاف کی جگہ سیاسی نقطہ نگاہ سے حالات کو دیکھنے لگتے ہیں اور اگر کثیر التعد اد لوگ ناراض ہوتے ہوں تو عدل اور انصاف کو ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور یہ امر ہے جس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اسی قسم کی ایک تازہ مثال میں نے اپنے خطبہ میں پیش الفضل کو گورنمنٹ کی تنبیہہ کی تھی اور وہ یہ کہ آریوں نے ابتداء کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ کو لیکھرام کا قاتل لکھا لیکن حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی اور ایسے شخصوں کو کوئی سزا نہیں دی۔ لیکن الفضل نے جب جواب دیا تو اس کو تنبیہ کی گئی کہ اس میں لیکھرام کے خلاف مضامین کیوں لکھے گئے ہیں اور ایک وجہ تنبیہ کی یہ بتائی گئی کہ لیکھرام کو لیکھو کیوں لکھا گیا ہے۔ حالانکہ جیسا کہ میں نے اپنے خطبہ میں بیان کیا ہے کیک پنڈت لیکھرام کا اصل نام لیکھو ہی تھا۔ رہی تھا۔ پس لیکھو کو لیکھو کہنا کوئی جرم نہیں تھا۔ لیکن حکومت نے اس پر تو اظہارِ ناراضگی کیا کہ لیکھو کو لیکھو کیوں لکھا ہے اور ان آریہ اخبارات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قاتل لکھتے ہیں۔ حالانکہ جب الفضل نے جوابی طور پر آریوں پر حملہ کیا تھا تو حکومت کو اس امر کا لحاظ رکھنا چاہئے تھا اور اپنے نفس میں شرمندہ ہونا چاہئے تھا کہ ہم نے وقت پر ان شریروں کی زبان بندی نہیں کی جنہوں نے ایک ایسے شخص پر جو گورنمنٹ کا بھی محسن تھا ایسا گندہ الزام لگایا ہے۔