انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 72

انوار العلوم جلد ۱۲ ۷۲ گور نمنٹ اور آریوں سے خطاب میرے اس خطبہ پر حکومت تو نہ معلوم کیا کارروائی کرے آریوں کی دھمکی کا جواب لیکن آریہ صاحبان بہت ناراض ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ اگر لیکھو کو لیکھو لکھا گیا تو وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مرز و یا غلمو لکھیں گے۔ میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا نقطہ نگاہ پہلے خوب سمجھ لیں۔ میرا نقطہ نگاہ یہ ہے لم: (1) جب آریوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قاتل لکھا تو اپنی گندگی اور شرارت کا ثبوت دیا اور ہمارے پیشوا اور امام کو بلا وجہ گالیاں دیں۔ پس ہمارا حق ہے کہ ہم ان کو اسی رنگ میں جواب دیں اور ابتداء کرنے کے بعد آریوں کو ناراض ہونے کا ہرگز کوئی حق نہیں۔ ہاں وہ اپنی شرارت پر ندامت کا اظہار کریں اور آئندہ کے لئے توبہ کریں تو وہ ہم سے نیک سلوک کی امید رکھ سکتے ہیں۔ ورنہ اگر وہ گالیوں میں بڑھیں گے تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں، انہیں ایسے جواب سننے پڑیں گے جو ان کے لئے بہت تلخ ہوں گے اور دنیا بھی انہی پر الزام رکھے گی کیونکہ انہوں نے ظلم کی ابتداء کی ہے۔ مجھے ایک آریہ اخبار کا یہ نوٹ دیکھ کر سخت ایک اور آریہ اخبار کا بے ہودہ نوٹ تعجب ہوا کہ ہم نے تو مرزا صاحب کو کچھ بھی برا نہیں کہا۔ ہم نے تو صرف انہیں قاتل لکھا ہے اور یہ تو ہر قوم کے آدمیوں کا خیال ہے۔ اول تو یہ امر غلط ہے کہ سب اقوام کے لوگ ایسا سمجھتے ہیں سوائے چند خبیث لوگوں کے سب شریف آدمی یہی سمجھتے ہیں کہ لیکھرام یا اپنے کسی شخص کے ہاتھ سے مارا گیا یا اس کے مارنے والا کوئی بے تعلق شخص تھا جس نے اسے مذہبی جوش میں قتل کر دیا ۔ اور جو لوگ زیادہ دلیر ہیں اور لوگوں سے نہیں ڈرتے وہ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں یہی کہتے ہیں کہ لیکھرام کے قتل کا واقعہ ایسا ہے کہ اسے الٹی فعل کے سوا کسی اور امر کے طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ آریہ اخبارات کی دنایت دوسرے ہے دوسرے یہ امران آریہ اخبارات کی دنایت پر دلالت کرتا ہے کہ وہ کسی کو قاتل کہنا معمولی بات سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس میں کوئی گالی نہیں ہے۔ جب کوئی قوم اخلاق سے عاری ہو جاتی ہے تو نہ صرف یہ کہ اس سے بد اخلاقی کے کاموں کا ارتکاب ہوتا ہے بلکہ وہ بد اخلاقی کو بد اخلاقی بھی