انوارالعلوم (جلد 12) — Page 70
انوار العلوم جلد ۱۳ گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب مگر میں نے پھر بھی کانگرس کی شورش کے وقت کانگرس کی شورش کے ایام میں کام میں ایسا کام کیا ہے کہ کوئی انجمن یا فرد اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔ اگر میں اُس وقت الگ رہتا تو یقینا ملک میں شورش بہت زیادہ ترقی کر جاتی اور یہ صرف میری ہی راہنمائی تھی جس کے نتیجہ میں دوسری اقوام کو بھی جرأت ہوئی اور اُن میں سے کئی کانگرس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئیں۔ لیکن باوجود اس کے مدیح کے معاملہ میں حکومت ہم نیلام ہونے کے لئے تیار نہیں ہمارے احساسات کے ساتھ کھیلتی رہی ہے۔ اس نے جان بوجھ کر اس معاملہ کو اس قدر لمبا کیا ہے کہ کوئی شخص اسے جائز نہیں قرار دے سکتا۔ وہ ہماری جیبوں سے سکھوں کو عارضی طور پر روکے رکھنے کی قیمت دلوانا چاہتی ہے لیکن ہم نیلام ہونے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ ذمہ دار افسر دو سال سے ہمیں یہ کہتے چلے آتے ہیں کہ مذبیح کا فیصلہ ہو گیا ہے بس اب جاری ہوتا ہے کچھ دن آپ لوگ اور صبر صبر کریں۔ اپنے حقوق چھوڑ کر بھی سکھوں کو خوش رکھیں تاکہ مذبح کے کھولنے میں دقت نہ ہو ۔ یہی آواز ہے جو ڈیڑھ سال سے ہمارے کانوں میں پڑ رہی ہے لیکن ہنوز روز اول والا معاملہ ہے۔ مذبح ہمارا حق ہے اس حق کے لینے کے لئے زائد قیمت ادا کرنے کے معنی ہی کیا ہوئے۔ لطف یہ ہے کہ جو تعزیری چوکی بٹھائی گئی ہے علاوہ اس کے کہ قادیان کی تعزیری چو کی اس کا رویہ نہایت قابل اعتراض ہے اس کے آنے پر چوریاں بڑھ گئی ہیں اور لوگ شبہ کرتے ہیں کہ یہ چوریاں خود بعض پولیس کے آدمی اس لئے کردار ہے ہیں تا کہ تعزیری چوکی کی معیاد بڑھائی جاسکے۔ نیت کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیان میں پچھلی سردیوں میں اس قدر چوریاں ہوئی ہیں کہ اس سے پہلے کئی سال میں بھی اس قدر نہ ہوئی ہوں گی۔ پس اگر بد دیانتی نہیں تو بعض لوکل افسروں کی نالائقی اس سے ضرور ثابت ہوتی ہے۔ تعزیری چوکی کا خرچ دوسری عجیب بات یہ ہے کہ اس چوکی کا خرچ جو علاقہ پر تقیم کیا گیا ہے اس میں مسلمانوں پر خاص ظلم کیا گیا ہے حالانکہ قصور سکھوں کا تھا۔ کمین لوگ جو بچارے نہایت محنت سے مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں ان پر بار بہت زیادہ ڈالا گیا ہے اور سکھ زمینداروں پر بہت کم ڈالا گیا ہے۔ یہ ظلم برابر جاری ہے اور باوجود