انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 610

انوار العلوم جلد 11 ٦١٠ فضائل القرآن (۳) آنکھیں تو پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں اور ہم کچھ دیکھ نہیں سکتے جو کچھ نظر آ رہا ہے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ پس معلوم ہوا کہ ہم نابینا ہو گئے ہیں اور یہ خواب ہے یا ہم پر اس شخص نے کوئی جادو کر دیا ہے کہ اس کلام کی پشت پر اس قدر سامان ہے۔ ہے جو اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک سامان کا ذکر بھی کرتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ ان سامانوں میں سے ایک یہ سامان ہے کہ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَ زَيَّنَّهَا لِلنَّظِرِينَ - ہم نے اس کلام کے آسمان میں روشن ستارے بنائے ہیں یا یہ کہ ہم نے آسمان میں کچھ ستارے مقدر کر چھوڑے ہیں جو اس کے محافظ ہیں۔ اور ہم نے اس کے آسمان کو ستاروں سے خوبصورت بنایا ہے۔ یعنی کثرت سے ستارے ہیں نہ کہ کوئی کوئی۔ وَحَفِظْنَهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَنِ رَجِيمِ اور ہم نے ! نے اس آسمان کو ہر شیطان رجیم جو اسے بگاڑنا چاہتا ہے ان ستاروں کے ذریعہ سے محفوظ کر دیا ہے۔ پس اب اس کلام کو کوئی شریر چُھو نہیں سکتا۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ۔ اب مبين - ہاں دور سے اس کی باتیں سن کر مطلب بگاڑنے کی کوشش کر سکتا ہے جیسے عیسائی کرتے ہیں۔ مگر جو دور سے سن کر باتیں بنانے والے ہونگے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ان کے لئے بھی ہم ایسا شہاب مقرر کر دیں گے جو ان کی حقیقت کو ظاہر کر دے گا۔ یعنی ہم نے ایسے آدمی رکھے ہیں کہ جب کوئی قرآن کی کسی آیت کا غلط مفہوم بیان کرے گا تو وہ ایک شہاب بن کر اسے تباہ کر دیں گے۔ یہ وہ ذریعہ ہے جو قرآن کی حفاظت کیلئے اختیار کیا گیا ہے۔ زینھا میں بتایا ہے کہ ہم نے روشنی کا جو سامان بنایا ہے وہ ایک آدھ نہیں بلکہ کثرت سے ہے اور مبین میں یہ حقیقت ظاہر کر دی کہ شہاب سے مراد ٹوٹنے والے تارے نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی شہاب ہو گا جو قرآن کے مطالب کھول کر بیان کر دے گا۔ اس آیت میں بتایا کہ اس آسمان کو کوئی شیطان چھو نہیں سکتا۔ دوسری جگہ اس کی تشریح ان الفاظ میں موجود ہے کہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۳ ، یعنی اس کو وہی لوگ چھو سکتے جو مطہر اور خادم دین ہوں۔ دوسرے لوگ جو گندے ارادوں سے اور بگاڑنے کی نیت سے اس کو چھونا چاہیں نہیں چھو سکتے۔ پس یہ قرآن ہی کے متعلق ہے کہ شیطان اسے چھو نہیں سکتا۔ ورنہ آسمان کو اگر شیطان نہیں چھو سکتا۔ تو کیا مؤمن چھو سکتا ہے؟ مگر اس آسمان کو صرف شیطان نہیں چھو سکتا اور مؤمن چھو سکتا ہے۔ پس یہ قرآن ہی ہے جسے مؤمن چُھو سکتا