انوارالعلوم (جلد 11) — Page 611
انوار العلوم جلد )) ہے۔ 411 فضائل القرآن (۳) ایک اور جگہ بھی اس کی تشریح آئی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن سن کر جب کچھ جنات واپس گئے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا۔ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَ شُهُبًا - وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدُ لَهُ شِهَا بَارَ صَدًا ، یعنی پہلے تو آسمان کو ہم چھولیا کرتے تھے لیکن اب جو گئے تو دیکھا کہ اس کی حفاظت کے لئے بڑے بڑے پہرہ دار بیٹھے ہیں۔ اور آسمان کو ہم نے شھب سے بھرا ہوا پایا پھر پہلے تو ہم آسمان میں بیٹھ بیٹھ کر باتیں سنا کرتے تھے لیکن اب کوئی سننے کے لئے جاتا ہے تو اسے پتھر پڑتے ہیں۔ اس سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ یہ آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے یہ تو جو ہے۔ اور گرنہ ایسی چیز نہیں جس میں کوئی بیٹھ سکے۔ اور اگر فرض کر لو کہ کوئی بیٹھ سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسول کریم میں ہم سے پہلے تو شیطان آسمان پر بیٹھا کرتے رتے تھے مگر پھر نہ بیٹھے۔ حالانکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ارواحِ کافرہ بھی آسمان پر نہیں جا سکتیں۔ پھر ہم کہتے ہیں رسول کریم می سے پہلے جب شیطان اوپر بیٹھتا تھا تو اب کیوں نہیں بیٹھتا؟ کیا اللہ تعالٰی کو پہلے غیب کی حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔ پھر وہ کون تھے جو خدا تعالیٰ کا غیب سن کر زمین پر آجایا کرتے تھے۔ حالانکہ قرآن صاف طور پر ان معنوں کو رد کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ نہ آسمان پر کوئی جا سکتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو غیب معلوم ہو سکتا ہے۔ پھر ان معنوں کے لحاظ سے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللہ خدا تعالیٰ کو بھی علم غیب نہیں تھا کیونکہ ایسی ہستیاں آسمان پر جا کر بیٹھتی تھیں جو غیب کی باتیں سن لیتی تھیں مگر خدا تعالیٰ کو ان کے بیٹھنے کا پتہ نہیں لگتا تھا۔ اب اس نے پتہ لگانے کے لئے پہرہ دار مقرر کر دیتے ہیں۔ دراصل ان آیات کے یہ معنے ہیں کہ آسمان روحانیت سے آنے والی پہلی کتابیں ایسی تھیں کہ جنہیں مخالف چھو سکتے یعنی انہیں بگاڑ دیتے تھے اور ان میں تبدیلیاں کر لیا کرتے تھے لیکن اب جو کتاب آئی ہے وہ ایسی ہے کہ اسے کوئی چھو نہیں سکتا۔ یعنی اسے کوئی بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی حفاظت کا خاص سامان کیا گیا ہے۔ اور پہلے تو ہم لوگ یعنی ہم میں سے بعض لوگ کلام کو سن کر جس طرح چاہتے تھے توڑ مروڑ کر بات سنا دیا کرتے تھے لیکن اب یہ دروازہ بھی بند ہو گیا ہے اور جو کتاب آئی ہے وہ ایسی ہے کہ کوئی بگاڑے والا اسے چھو نہیں سکتا۔ بلکہ اگر