انوارالعلوم (جلد 11) — Page 609
انوار العلوم جلد ۶۰۹ فضائل القرآن (۳) ذرائع کیوں نہیں بتائے گئے۔ چاہئے تھا کہ فرشتے اس کے ساتھ اترتے۔ یہ ان کے نقطہ نگاہ سے معقول اعتراض تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا جواب دیا اور فرمایا مَا نُنَزِّلُ الْمَلَئِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذَا تُنْظَرِينَ * فرشتے تو پیغامبر ہوتے ہیں یا عذاب کی خبریں لاتے ہیں یا بشارت کی۔ فرشتوں کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا کے کلام کی حفاظت کر سکیں۔ فرشتوں کو تو کامل علم نہیں ہوتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ الفاظ کی حفاظت کر سکتے ہیں مطالب کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ حفاظت تو سوائے ہماری ذات کے اور کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ سو ہم بتاتے ہیں کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ہم اس کی حفاظت کا کا فیصلہ کر چکے ہیں ہم ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ اب تم اور آئندہ کفار زور لگا کر دیکھ لو تم کچھ نہیں کر سکتے۔ اور آئندہ بھی کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔ اكو پھر فرمایا وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ - وَمَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِرُونَ - كَذَالِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ - لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ - الحد یعنی نہیں اور انکار تو پہلے انبیاء کا بھی ہوتا چلا آیا ہے۔ لیکن پہلے انبیاء تو اس کتاب کے متعلق جو ان پر نازل ہوتی تھی یہ نہیں کہتے تھے کہ وہ ہمیشہ محفوظ رہے گی۔ پھر لوگ ان سے کیوں ہنسی کرتے رہے۔ ان لوگوں کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ خواہ مخواہ اعتراض کریں ورنہ جو کچھ یہ کہتے ہیں قطعاً معقول بات نہیں ہے۔ یہ تو صرف جرم کا نتیجہ ہے جو ہر زمانہ میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ اب رہا اس کے محفوظ ہونے کا ثبوت۔ سو اس کے متعلق فرماتا ہے۔ وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمُ بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ - لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِرَتْ أَبْصَارُ نَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ - وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّهَا لِلنَّظِرِينَ - وَ حَفِظُنُهَا مِنْ كُلِّ شَيْنٍ رَّحِيمٍ ! جِيمِ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاتَّبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِين الى فرمایا ۔ یہ بے وقوف لوگ اپنی ناواقفی سے کہتے ہیں کہ قرآن بھی لفظوں میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔ جب ایسی ہی اور کتابیں بگڑ گئیں تو یہ کیوں نہیں بگڑ سکتی۔ انہیں آسمانی سامان نظر نہیں آتے۔ اگر ہم آسمانی دروازوں میں سے ایک بھی ان کے لئے کھو لتے اور یہ آسمان پر چڑھ جاتے۔ یعنی ان سامانوں سے آگاہ ہوتے جو اس کتاب کی حفاظت کے لئے کئے گئے ہیں تو یہ ایسی بے ہودہ بات نہ کرتے۔ ایک راہ بھی اگر انہیں نظر آتی تو حیران رہ جاتے اور کہتے کہ ہماری