انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 526

انوار العلوم جلدا ۵۲۶ مستورات سے خطاب کہیں دہلی سے باہر گیا ہوا تھا۔ دشمن نے کوئی چغلی لگائی اور بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ دہلی پہنچتے ہی ہی یہاں سے اس بزرگ کو سزائے موت دوں گا۔ لوگوں نے آپ سے کہا کہ آپ بادشاہ کے آنے سے پہلے کہیں چلے جائیں یا معافی مانگیں ۔ مگر آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بادشاہ دہلی کے قریب پہنچ گیا۔ خبریں آتی تھیں کہ بادشاہ ان بزرگ پر غضب ناک ہو رہا ہے اور آتے ہی عبرت ناک سزا دے گا۔ خیر خواہوں نے پھر وہی مشورہ دیا مگر آپ نے کہا ” آنے دو ہوا کیا آخر باشارہ ہے خدا تو نہیں " یہاں تک کہ سنا گیا کہ کل صبح بادشاہ کی سواری کشمیر میں داخل ہوگی۔ بادشاہ اب دہلی کے بہت نزد نزدیک ہے مگر ان بزرگ نے بڑے ا اطمینان سے فرمایا ”ہنوز دلی دور است سننے والے حیران تھے کہ بادشاہ چند لمحوں میں آیا چاہتا ہے یہ دتی دور بتاتے ہیں مگر اسی رات کو بادشاہ قولنج سے مر گیا اور اسے دلّی میں داخل ہونا نصیب ہی نہ ہوا۔ ہمارے دش آنحضرت مسلم کے متعلق واقعہ ہے کہ دنیوی حالت نہایت غربت میں تھی۔ ہاں ظاہری حالت بے بسی کی ہی۔ مگر باوجود اس ظاہری بے سرو سامانی کے ایران کے بادشاہ کے پاس آپ کی نبوت اور ترقی کی رپورٹیں رپور برابر پہنچتی تھیں اور اور وہ وہ آ۔ آپ سے باوجود بادشاہ ہونے کے خائف تھا آخر اس نے عرب کے گورنر کو آپ کی گرفتاری کا حکم بھیجا۔ آدمی شاہی حکم لے کر آپ کے پاس آئے اور صاف صاف عرض کر دیا اور کہا کہ نافرمانی نہ کیجئے بے چون و چرا رے ہاتھ اپنے آپ کو دے دیجئے۔ بادشاہ بہت بڑا ہے اس کے حکم کی تعمیل میں ایران چلئے اس میں آپ کا بھلا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کل اس کا جواب دوں گا۔ دوسرے دن آپ نے ان سے فرمایا۔ سنو! آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا۔ جاؤ واپس۔ انہوں نے واپس جا کر من و عن گورنر کو کہہ دیا۔ گورنر حیران ہو گیا۔ وہ ایران کی ڈاک کا منتظر رہا یہاں تک کہ وہی اطلاع اس کو پہنچی کہ خود اس کے بیٹے نے اس کو قتل کر دیا اور اُسی رات جس رات آپ نے فرمایا تھا۔ خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ہمارا باپ بڑا ظالم تھا ہم نے اس کو مار دیا۔ اب ہم خود بادشاہ ہیں۔ ہمارے باپ نے از از راه راہ ظلم عرب کے ایک شخص کو قتل کا کا حکم حکم دیا ہے۔ اب چونکہ وہ مار دیا گیا ہم اس کے حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔ ۱۲ تو اب دیکھو بادشاہت دنیا میں کوئی چیز نہیں۔ اصل مقصود تو یہ ہے کہ خطروں سے محفوظ ہو جائیں اور خطروں سے وہی محفوظ ہو سکتے ہیں جو خدا کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ خدا کی صفات پر ایمان لاتے اور دعاؤں سے اس کی مدد کو پاتے ہیں ۔ ہاں تو یاد رکھو کہ خدا سنتا ہے مگر