انوارالعلوم (جلد 11) — Page 525
انوار العلوم جلدا ۵۲۵ مستورات سے خطاب ہے اور بھیڑیں لیٹی ہوئی ہیں گویا ذبح کرنی ہیں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کے منتظر تھے کہ تھے کہ ان کو ذبح کریں۔ اس وقت کشفی طور پر آپ کو معلوم ہوا کہ بھیڑیں گناہگار انسان ہیں۔ پھر آواز آئی کہ قُلْ مَا يَعْبَوُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُم لو خدا سے دعا کرو کہ تمہاری سختیاں معاف ہوں گویا سخت سے سخت مشکلات کا حل دعا سے ہو سکتا ہے۔ اگر دعا نہ ہوتی تو انسانی زندگی بالکل بے کیف رہتی۔ حضرت مسیح ناصری نے کیا لطیف فرمایا کہ انسان روٹی سے نہیں خدا کے کلام سے زندہ رہتا ہے۔ " ال پس خدا کا علم اور اس ۔ اور اس کے بعد دعا انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں اس کے بغیر تمہاری زندگیاں بیکار ، تمھارے کام بے ثمر ہیں، یہ مت خیال کرو دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ خدا کو نہیں مانتے اور وہ پھر بھی بڑے خوش نصیب ہیں۔ یہ صحیح ہے مگر بادشاہت کوئی کامیابی نہیں۔ اگر کوئی اس پر گھمنڈ کرتا ہے تو اس کی بیوقوفی ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جس طرح ایک کسمپرس چوڑا جان کندنی یا تکلیف جسمانی کے وقت درد و کرب سے کراہتا ہے اس طرح ایک طاقت در مگر خدا کو نہ ماننے والا بادشاہ بھی۔ نبیوں کی زندگی دیکھو کہ جن کو زمانہ کے شدو مد کی کچھ پروا نہیں، دکھوں کا غم نہیں۔ مصائب میں سینہ سپر بھی ہیں بے فکر بھی۔ غرض ان کا دل اس طرح مطمئن ہے کہ تمام جہان کی بادشاہت حاصل کر کے ایک دنیاوی بادشاہ کو بھی نہیں ہو سکتا۔ وجہ یہ کہ دنیاوی بادشاہ کا بھروسہ اسباب مادی پر ہوتا ہے مگر خدا کے فرستادہ رتا ہے مگر خدا کے فرستادہ کا چونکہ خدا کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے پس وہ اپنے اس حامی کی حمایت میں ہر طرح بے فکر رہتا ہے۔ گو اس کے پاس مادی اسباب کی قلت ہو بلکہ نہ ہونے کے برابر۔ مگر اس کی مسرت اور اس کے اطمینان کو کوئی نہیں پا سکتا۔ حضرت مسیح موع موعود علیہ السلام کے پاس کونسی سلطنت یا طاقت تھی مگر آ۔ مگر آپ مصائب اور شد ایک زمانہ سے بے فکر تھے۔ زار روس : ر روس جو ایک نہایت بلند بادشاہ تھا اس کے متعلق آپ نے پیشگوئی فرمائی کہ وہ نہایت بے کسی کی حالت میں تباہ ہو گا۔ پھر اسی طرح ہوا۔ اب شہنشاہ زار کی پہلی قوت دیکھو پھر اس پیشگوئی کے بعد اس کے بعد بے کسی۔ پس معلوم ہوا کہ دنیا کے بادشاہوں کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی۔ وہ بالکل مرده بدست زندہ کی مثال ہیں مگر خدا کے پیارے ہر طرح با اقتدار ۔ ایک ولی بزرگ کا واقعہ ہے جو دہلی میں رہتے تھے بادشاہ وقت ان سے ناراض ہو گیا۔