انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 524

انوار العلوم جلدا ۵۲۴ مستورات سے خطاب ہو ९९ میں انگریز تعلیم یافتہ یافتہ اور تم جاہل، انگریز آسودہ حال تم فلاکت زدہ وہ عالی مرتبہ اور بشاش تم سراپا نکبت اور غمگین ۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ تقدیر کی ان سے دوستی اور تم سے دشمنی ہے بلکہ وجہ محض یہ ہے کہ انہوں نے قانون قدرت کے مطابق کام کیا یا یوں کہو کہ دنیا کی مشینری کا صحیح استعمال کیا اور فائدہ اٹھایا مگر تم نے نافرمانی اور خلاف قاعدگی سے نقصان پایا۔ جب بچہ بیمار کی وجہ سے تمہاری بے وقوفی کی وجہ سے تمہاری جہالت کی وجہ جاتا ہے تمہاری غفلت کی وجہ سے تو تم اس کو تقدیر سے وابستہ کرتی ہو اپنی غلطی کو نہیں مانتیں اور نہ اپنی اصلاح کی کوشش کرتی ہو۔ خود تربیت کا خیال نہیں رکھتیں مگر جب وہ خراب اور اوباش ہو جاتا ہے تو کہتی ہو "جی تقدیر " ۔ یاد رکھو یہ تمام باتیں غفلت اور قانون شکنی کی ہیں۔ خدا نے قانون بنائے ہیں ان پر چلنے والے کامیاب ہوں گے خلاف ورزی کرنے والے تباہ۔ پس میں پھر کہتا ہوں کہ اس تقدیر کی آڑ میں خدا پر الزام نہ رکھو ۔ عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء کا یہی مطلب ہے کہ خدا کا علم یعنی اس کی صفات سے واقفیت۔ تم خدا کی فرستادہ جماعت کا حصہ ہو۔ تم کو اس کی ذات کا علم ہونا ضروری ہے۔ تم تقدیر کو چھوڑو تقدیر خدا کے ساتھ اچھے موقعوں پر منسوب کرو۔ جانو کہ وہ قادر ہے وہ رحیم حیم ہے ہے وہ وہ کریم ہے وہ ر رحمن ہے، ہے وہ عقدہ کشا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مسئلہ تقدیر کو کیسی لطیف شان دی ہے۔ فرماتے ہیں بیمار میں پڑتا ہوں شفاء خدا دیتا ہے۔ جاہل میں رہتا ہوں علم خدا دیتا ہے۔ غفلت میں کرتا ہوں ہوش میں وہ لاتا ہے۔ پس تم بھی ظالمانہ باتیں خدا تعالی کی طرف منسوب نہ کرو۔ اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کو دور کرو۔ اس کے بنائے ہوئے قوانین کو صحیح طریق سے عمل میں لاؤ تا یہ ادبار تم سے دور ہو۔ اور یہ بات یاد رکھو کہ آئندہ ہماری جماعت میں یہ مسئلہ نہ اُٹھے۔ رو یہ ایسا ہتھیار ہے کہ جہاں پڑے کاٹ دیتا ہے۔ اللہ تعالٰی اپنے سرا مسئلہ دعا کا ہے رسول سے فرماتا ہے کہ اے میرے رسول ! ہمار - ہمارے بندوں سے کہدے کہ میرا رب تمہاری کیا پرواہ کرتا ہے اگر تم دعا سے اس کے ساتھ تعلق نہ رکھو۔ وہ گھر افسوس ہمارے ملک میں دعا کی ایسی بے قدری ہوئی ہے کہ ٹوٹی جوتی کی بھی نہ ہوتی ہو ۔ حالانکہ اسلام نے مسلمانوں کو یہ ایک ایسا ہتھیار دیا ہے جس پر مسلمان جتنا بھی ناز کرتے کم تھا۔ دعا خالق اور مخلوق کے مابین راستے کی سیڑھی ہے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ ایک کھائی کھدی ہوئی