انوارالعلوم (جلد 11) — Page 510
انوار العلوم جلدا ۵۱۰ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۰ء نہایت ہی قلیل حصہ کی نقل ہوتی ہے وہ اگر اتنی قیمت پاتی ہے تو وہ چیز جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمام جن اور انس مل کر بھی کوشش کریں تو اس کے مقابلہ کی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ اس کے مقابلہ کی پیدا کرنا تو الگ رہا اس کے کسی حصہ کی نقل بھی نہیں کر سکتے۔ وہ کس قدر قیمتی ہو سکتی ہے۔ مثل کے معنی تصویر کے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روحانی سلسلہ جسمانی سلسلہ سے اعلیٰ ہے۔ تم جسمانی چیزوں کی تصویر کھینچ سکتے ہو مگر یہ ہم روحانی چیز پیش کرتے ہیں تمام کے تمام مل جاؤ اور اس کی تصویر بناؤ۔ اصل کے مطابق بنانا تو تمہارے لئے جسمانی سلسلہ میں بھی ممکن نہیں ہے تم نقل ہی کر سکتے ہو مگر تم اس کی نقل بھی نہیں کر سکتے ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اسلام جیسا مذہب اور قرآن جیسی کتاب عطا کی۔ اس پر مزید فضل یہ ہوا کہ ہمارے گناہوں، ہماری شامت اعمال ، ہماری غفلتوں اور ہماری خطاؤں کی وجہ سے جب یہ پاک کلام دنیا سے اُٹھ گیا تو اس نے پھر عطا کیا۔ وہ کلام جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ جن و انس مل کر بھی اس کے کسی حصے کی تصویر اور نقل پیش نہیں کر سکتے۔ اس میں مسلمان کہلانے والوں اور مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والوں کو ہزاروں عیب دکھائی دینے لگے۔ اور وہ لوگ اچھے اور قابل مسلمان سمجھے جانے لگے جو قرآن کے متعلق اچھی معذرت پیش کر سکیں۔ سرسید احمد صاحب علی گڑھ کالج کے بانی جن کی تعلیمی کوششوں کی ہم قدر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کی ایک حد تک خدمت کی ان کی مذہبی لحاظ سے پوزیشن ہیں تھی کہ وہ قرآن کی طرف سے معذرت پیش کرنے میں قابل سمجھتے جاتے اور ان کی معذرت یہی ہوتی کہ وہ کہتے قرآن میں پرانے زمانہ کی باتیں ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو مخاطب کرکے کی گئی ہیں جو جاہل تھے ۔ اہل یورپ کو ان کا کوئی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ اسی طرح سید امیر علی صاحب مسلمانوں کے دوسرے مشہور لیڈر تھے۔ ان کے متعلق بھی یہی بات کہی جاتی کہ وہ اسلام کی طرف سے بہت اچھی معذرت پیش کرتے ہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں جہاں ملائکہ کا لفظ آیا اس کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ یورپ کے لوگوں کو اس سے گھبرانا نہیں چاہئے پہلے زمانہ کے لوگ اس قسم کی مخلوق مانا ہی کرتے تھے انہی کے خیالات کو مد نظر رکھ کر قرآن میں یہ ذکر آگیا ہے۔ اسی طرح پردہ وغیرہ کے متعلق کہتے کہ یہ اس زمانے کے لئے تھا جب کہ تہذیب نے اتنی ترقی نہ کی تھی۔