انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 511

انوار العلوم جلد ۵۱۱ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۰ء غرض اسلام کے بہترین خادم بلکہ محسن وہ لوگ سمجھے جاتے تھے جو قرآن کریم کی خیالی غلطیوں اور وہی تقصیروں کا ازالہ اپنی باتوں سے کرتے تھے۔ اس ماحول اور ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک نبی بھیجا جس نے قرآن کریم کو اس کی اصل شکل میں پیش کیا اور بتا دیا کہ جہاں چاہو اسے لے جاؤ کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے اور اس کے ایک لفظ کو بھی غلط ثابت کرنے کی جرات رکھے۔ یہ تو ایک بم ہے کہ باطل کی جتنی بھی بڑی سے بڑی عمارت پر اسے گراؤ اسے پاش پاش کر دے گا۔ اس کی طرف سے کسی قسم کی معذرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ معذرت تو بیمار اور ناکارہ کی طرف سے کی جاتی ہے مگر وہ کلام جو دنیا کے لئے ہدایت لے کر آیا اس کی طرف سے معذرت پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ تو خدا تعالیٰ کے نور اور اس کی برکتوں کا مجموعہ ہے۔ اس کے سامنے دنیا کو ضرورت ہے کہ معذرت پیش کرے جو ظلمت اور گمراہی میں پڑی ہوئی ہے۔ پھر اس کے سامنے دوسری مذہبی کتابوں کو ہاتھ جوڑنے چاہئیں اور کہنا چاہیئے اب ہماری زیادہ پردہ دری نہ کی جائے۔ پس اس کلام کا تو یہ مرتبہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک اور ہر قوم کے انسان آتے اور کہتے ہم جہالت میں مبتلا ہیں تم خدا تعالیٰ کا کلام ہو ہماری دستگیری کرد اور ہمیں ظلمت کے گڑھے سے نکالو۔ قرآن کو کسی قسم کی معذرت پیش کرنے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے اس کا تو ایک ایک لفظ عقل، نقل، تاریخ، جغرافیہ ، سائنس غرض دنیا کے ہر علم سے درست ثابت ہوتا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کا ہم پر یہ فضل ہوا کہ اس نے ہمارے زمانہ میں ایک ایسا انسان بھیجا جو دوبارہ دنیا میں قرآن لایا پھر اس کا ایک فضل یہ ہوا کہ ہم لوگ جو علم کے لحاظ سے ، عقل کے لحاظ سے، تجربہ کے لحاظ سے ظاہری سامانوں کے لحاظ سے دنیا میں نہایت ہی کمزور ہیں بلکہ بغیر مبالغہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر اس چیز کو ہم سے جدا کر دیا جائے جو خدا تعالیٰ کے مامور نے ہمیں عطا کی ہے تو ہم دنیا میں بد ترین خلائق کہلانے کے مستحق ہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ ہم بد ترین خلائق ہیں اور انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں آج کل کی متمدن کہلانے والی قومیں جاہل، وحشی اور بد تہذیب کہتی ہیں ہم میں سے ہی خدا تعالیٰ نے ایسے آدمیوں کو چنا جنہوں نے مہذب کہلانے والی اقوام کو ہدایت علم و عرفان دیا اور مہذب قومیں ہماری باتوں کے آگے سرتسلیم خم کر رہی ہیں۔ وہ قومیں جو ہمیں غیر مہذب کہتی تھیں اور اب بھی دوسروں کو غیر مہذب اور وحشی ہی کہتی ہیں وہ خواہش کرتی ہیں کہ ہم سے تہذیب اور روحانیت سیکھیں اور