انوارالعلوم (جلد 11) — Page 509
انوار العلوم جلد ۵۰۹ افتتاحی تقریر جلسه سانانه ۱۹۳۰ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۰ء (فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۳۰ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اسلام جیسا مذہب ہمیں عطا فرمایا اور قرآن جیسی کتاب ہمیں بخشی۔ یہ وہ نعمت اور وہ خزانہ ہے جس کی نسبت وہی اَصْدَقُ الصَّادِقِينَ خود فرماتا ہے اگر سب جن و انس بھی جمع ہو جائیں تب بھی اس قسم کا خزانہ تیار نہیں کر سکتے۔ لے معمولی انسانوں کی بنی ہوئی چیزیں دنیا میں بہت قیمت پاتی ہیں۔ ایک مصور چند رنگ جمع کر دیتا ہے جو قدرتی نظاروں کی خوبصورتی ظاہر کرتے ہیں۔ وہ خالق نہیں بلکہ وہ نقال ہوتا ہے مگر اس کی نقلیں بھی اچھی بنی ہوئی تھیں چالیس لاکھ کو بک جاتی ہیں۔ ایک انسان جو تصویر بناتا ہے اس میں کچھ گھاس کے تنکے ہوتے ہیں ، کچھ درخت ہوتے ہیں ، کہیں کسی ندی کے بنے کا ظارہ دکھایا ۔ جاتا ہے ، کہیں پہاڑ کی چوٹیاں برف سے ڈھ ڈھکی ہوئی دکھائی جاتی ہیں گویا خدا خدا انا تعالیٰ کی پیدائش کے وہ حصے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں ان کا بھی اس تصویر میں کروڑواں حصہ بھی نہیں ہوتا۔ پھر نہ ان پہاڑوں کی برف ہمیں پانی پہنچاتی ہے نہ ان پہاڑوں کی چوٹیاں ہمارے لئے گرمی سے بچنے کے لئے سرد مقامات پیش کرتی ہیں۔ نہ وہ سبزہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس سے پھول پھل پیدا ہو سکیں یا کسی قسم کا غلہ اس سے حاصل کیا جا سکے وہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ایک نہایت قلیل حصہ کی نقل اور تصویر یا نظارہ ہوتا ہے مگر وہ جتنا اصل نظارہ کے قریب ہوتا جاتا ہے اتنی ہی اس کی قیمت بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ میں نے بتایا ہے کہ بعض تصاویر تیں تھیں لاکھ روپیہ کو بک جاتی ہیں۔ لیکن انسانی صنعت جو محض نقل ہوتی ہے اور ایک