انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 390

انوار العلوم جلد 1 ۳۹۰ ہند و مشان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل اس پچیس سال کے عرصہ کے بعد جہاں جہاں اور جس جس قوم کے حق میں یہ طریق ابھی جاری ہو اسے موقوف کر دیا جائے لیکن شرط یہ ہو کہ صرف ان اقلیتوں کے حق میں اسے موقوف کیا جائے جو تین فیصدی سے زائد ہوں۔ جن اقلیتوں کی تعداد تین فیصدی سے کم ہو اور انہیں جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو ان کے اس حق کو بغیر ان کی مرضی کے خواہ کسی قدر عرصہ بھی گزر جائے ۔ باطل نہ کیا جائے دوسری شرط یہ ہو کہ اس صورت میں اس حق کو باطل کیا جائے جب کہ ہر بالغ مرد کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو چکا ہو ۔ جن قوموں کے حق میں اس قانون کو پچیس سال بعد منسوخ کر دیا جائے ان کی بھی میرے نزدیک دو قسمیں ضروری ہیں۔ اگر تو وہ قوم جسے جدا گانہ انتخاب کا حق دیا گیا ہو اس کی صوبہ میں اکثریت ہے تب تو کلی طور پر اس قانون کو منسوخ کر دیا جائے ۔ لیکن اگر وہ قوم اقلیت ہے تو جدا گانہ انتخاب تو منسوخ ہو لیکن مخلوط انتخاب کے ساتھ اس کی تعداد یا اس کے مقررہ حق کے برابر نشستیں جو بھی ان میں سے زیادہ ہوں اس قوم کے لئے مقرر کر دی جائیں اور ان مقررہ نشستوں کو ترک کر کے گلی طور پر مخلوط انتخاب کو اختیار کرنا اس قوم کے تین چوتھائی افراد کے ریزولیوشن پر منحصر ہو۔ اور اس کے ساتھ بھی وہی شرطیں ہوں جو میں وقت سے پہلے جدا گانہ انتخاب کے طریق کو منسوخ کرنے کے متعلق بیان کر آیا ہوں۔ جدا گانہ انتخاب کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو جاتا مختلف اقوام کی نیابت کا تناسب ہے کہ ہرایک قوم کی نمائندگی کا تاسب کیا ہوگا۔ کیونکہ جس ملک میں یہ طریق جاری نہ ہو وہاں سوائے اس صورت کے کہ مخلوط انتخاب کے ساتھ نشستوں کا تعین کیا جائے یہ سوال بلا واسطہ طور پر پیدا ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ جب سب لوگ مل کر نمائندے منتخب کریں اور نشستوں کا تعین بھی نہ ہو تو جو قوم زیادہ جگہیں لے سکتی ہو لے جائے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ پس یہ سوال خصوصیت کے ساتھ علیحدہ انتخاب سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس کے ساتھ اسے بیان کرنا مناسب ہے۔ مسلمانوں کا مطالبہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں شروع سے یہ رہا ہے کہ چونکہ ان کی پولیٹیکل حیثیت اس ملک میں بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ انگریزوں نے ان سے حکومت لی ہے اور اکثر حصے ملک کے ایسے ہیں جو مسلمان بادشاہوں سے بطور ٹھیکہ کے انہوں نے لئے تھے یا بطور انعام کے ان کو ملے تھے پس عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ جس قوم سے حکومت بطور مستأجری