انوارالعلوم (جلد 11) — Page 391
انوار العلوم جلد ) ۳۹۱ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل یا انعام میں لی گئی ہو اس کے حق کو وقعت دی جائے۔ اسی طرح مسلمانوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مسلمان فوجی خدمات میں اپنی قومی تعداد سے زیادہ حصہ لیتے رہے ہیں اس لئے بھی انہیں زیادہ حصہ ملنا چاہئے۔ یہ مطالبہ معقول ہے یا غیر معقول میں اس بحث میں نہیں پڑتا۔ بہرحال اس کو لارڈ منٹو تسلیم کر چکے ہیں اور مسٹر گو کھلے جیسا لیڈر اس کی تصدیق کر چکا ہے۔ لارڈ منٹو کے اعلان کے بعد ہندو مسلم سمجھوتے کے لئے لکھنو میں ایک مجلس ہوئی تھی جس میں ہندوؤں نے اس اصل کو قبول کر کے مسلمانوں سے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہندو صوبوں میں ہندو مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد حق دے دیں گے لیکن اس طرح مسلمان مسلمان صوبوں میں ہندوؤں کو ان کے حق سے زائد نشستیں دے دیں۔ مسلمانوں نے بد قسمتی سے اسے منظور کر لیا۔ میں اسے بد قسمتی کہتا ہوں کیونکہ تمام بعد میں ظاہر ہونے والے فسادات اسی سمجھوتہ پر مبنی ہیں۔ ایک طرف ہندو مسلمانوں کو یہ سمجھوتہ یاد دلاتے ہیں دوسری طرف برطانوی نمائندے اس سمجھوتہ کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان نمائندوں نے اپنی طرف سے تو اپنی قوم سے نیکی ہی کرنی چاہی تھی لیکن ہو گئی بُرائی ۔ اگر لارڈ منٹو کے اعلان اور اس پر مسٹر گو کھلے اور دوسرے ہندو لیڈروں کی تصدیق تک ہی معاملہ ختم ہو جاتا تو مسلمانوں کا حق ضائع نہ ہوتا۔ لیکن جہاں تک میرا خیال ہے بعض ہندوؤں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمان اپنا حق لے چلے ہیں یہ چال چلی اور مسلمانوں سے میثاق لکھنو باندھ کر ہمیشہ کے لئے انہیں اپانچ کر دیا ۔ لکھنو پیکٹ کیا ہے ایک اقرار ہے کہ ہندوستان بھر میں کسی صوبہ میں بھی مسلمانوں کو آزادی کا سانس لینا نصیب نہ ہو گا۔ تعداد کے لحاظ سے بے شک مسلمانوں کو بہت کچھ مل گیا ہے لیکن قیمت کے لحاظ سے وہ سب کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ سائمن رپورٹ نے بھی مسلمانوں کو یاد دلایا ہے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دوسرے صوبوں میں بھی مسلمانوں کو ان کے حق سے بہت زیادہ ملے اور پنجاب اور بنگال میں بھی انہیں قانون کے ذریعہ سے کثرت دلا دی جائے۔ میرے نزدیک لکھنو پیکٹ ایک غلطی تھی لیکن اس کے پیش کرنے والوں کو ایک بات بھول جاتی ہے ہے اور وہ یہ یہ کہ لکھنو پیکٹ کی کبھی بھی تصدیق نہیں کی گئی۔ وہ ہمیشہ کے لئے ایک منسوخ شدہ تحریر کی حیثیت میں رہا ہے اور اس امر کی تو سائمن رپورٹ بھی شہادت دیتی ہے کہ کم سے کم موجودہ زمانہ میں وہ قابل توجہ نہیں ہے۔ اس میں لکھا ہے:۔