انوارالعلوم (جلد 11) — Page 389
انوار العلوم جلد 1 ۳۸۹ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل برابر ہی مفید ہو گا۔ چونکہ چائے پر دوستانہ گفتگو ہو رہی تھی اور کم سے کم میں اپنے دماغ پر پورا زور نہیں دے رہا تھا مجھے یہ تجویز معقول معلوم ہوئی۔ مگر بعد میں جب میں نے اس کے سب پہلوؤں پر غور کیا تو مجھے یہ تجویز بالکل نامناسب معلوم دی کیونکہ یہ امر میرے دوست کے ذہن سے اتر گیا تھا کہ جدا گانہ انتخاب کا حق جسے دیا جائے اس کا چھوڑنا اس کے اختیار میں ہے۔ سو اگر مسلمان اس پوزیشن کو اختیار کر لیں گے جو انہوں نے تجویز کی تھی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نئے نظام حکومت کے بعد دوسرے ہی الیکشن پر ہندو سکھ اپنے اس حق کو چھوڑ کر ہم سے آ ملیں گے اور ہمارے پاس ان کے روکنے کے لئے کوئی دلیل نہ ہو گی کیونکہ مخلوط انتخاب والے کا حق نہیں کہ وہ علیحدہ علیحدہ حلقہ انتخاب والے کو جُدا گانہ انتخاب کا حق کا حق چھوڑ نے سے روک سکے۔ پس نتیجہ یہ ہو گا کہ پیشتر اس کے کہ پنجاب مخلوط انتخاب کے لئے تیار ہو ، وہ جدا گانہ انتخاب کے حق سے محروم کر دیا جائے گا اور نظام چونکہ قائم ہو چکا ہو گا مسلمان دوبارہ اس سوال کو نہیں اٹھا سکیں گے۔ ا غرض کم سے کم پنجاب میں اس علاج سے ہماری مشکلات کا حل نہیں ہو سکتا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم کوئی نیا علاج تجویز کریں۔ میں غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس کا علاج ایک ہی ہے کہ علیحدہ انتخاب کا حق صرف محدود سالوں کے لئے ہو۔ اس عرصہ کے گذر جانے پر خود بخود سب ملک میں مخلوط انتخاب کا طریق رائج ہو جائے گا۔ ہاں اس عرصہ کے گزرنے سے پہلے بھی اگر اس جماعت کے تین چوتھائی منتخب نمائندے جس کے حق میں اس طریق کو جاری کیا گیا ہو یہ فیصلہ کر دیں کہ وہ اس حق کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں اور گورنر صوبہ کی رائے ہو کہ وہ اپنی قوم کی ترجمانی کر رہے ہیں تو اس قوم کے حق میں اس طریق انتخاب کو ترک کر دیا جائے۔ قوم کی ترجمانی معلوم کرنے کا ذریعہ یہ ہو کہ گورنر ان کی اس رائے کو شائع کر کے پبلک رائے کو معلوم کرلے۔ میں نے جہاں تک غور کیا ہے پچیس سال کا عرصہ اس انتخاب کے طریق کو جاری رکھنے کے لئے کافی ہے وہ اقوام جو ڈرتی ہیں کہ کہیں ہماری حق تلفی نہ ہو۔ اگر وہ اس عرصہ میں بھی اپنے آپ کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں کر سکیں تو وہ مزید امداد کی مستحق نہیں ہیں لیکن یہ عرصہ نئے نظام سے شروع ہو ۔ گذشتہ زمانہ اس میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ اس زمانہ میں صوبہ جات کو آزادی حاصل نہیں ہوئی تھی اور بیداری بغیر آزادی کے نہیں پیدا ہوتی۔