انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 353

انوار العلوم جلدا ۳۵۳ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل (BACK WARD) علاقہ لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے گورنروں کو دہرے اختیار دینے پڑیں گے۔ پھر چھوٹے صوبے ہیں ان میں کوئی خاص نظام حکومت ہے ہی نہیں وہ براہ راست گورنمنٹ آف انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ہندوستان کو مجموعی حیثیت سے کوئی آئینی شکل نہیں دی جا سکتی۔ پس میرے نزدیک اس سوال کو ایک ہی دفعہ حل کر دینا چاہئے۔ پہلے میں بیک ورڈ (BACK WARD) علاقوں کو لیتا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ تعلیم میں پیچھے ہونے کے سبب سے وہاں کے باشندے اب تک عام سیاسیات میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ گورنمنٹ نے اب تک ان کے لئے کوشش کیا کی ہے۔ خواہ وہ کسی قدر بھی وحشی ہوں پھر بھی وہ سو سال سے زائد عرصہ سے حکومت برطانیہ کے ماتحت ہیں۔ پس کون تسلیم کر سکتا ہے کہ اس قدر لمبے عرصہ میں ان کے اندر کوئی مفید تبدیلی نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ تو بالکل درست ہے کہ وہ سینکڑوں سال کی مہذب دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے مگر ان میں کچھ تو قابلیت آتی لیکن وہ اب تک ویسے کے ویسے ہیں اور اس کی وجہ صرف یہ معلوم ہوتی ہے کہ مہذب دنیا کی دلکشیوں نے مقامی حکام کو ادھر توجہ نہیں کرنے دی اور نہ ہی محکام بالا نے ان سے وقتاً فوقتاً یہ رپورٹ طلب کی کہ ان کی تعلیمی اور تمدنی ترقی کی طرف تم نے گذشتہ سالوں میں کیا توجہ کی ہے۔ پھر حکومت کی خواہش بھی انسان پر سوار رہتی ہے اس لئے حکام کو یہ بھی خیال رہا ہو گا کہ ان کے ترقی کرنے پر ہمارے وہ اختیار نہیں رہیں گے جو اب ہیں۔ ورنہ ایک اس قدر زبر دست حکومت سے جب کہ وہ لوگ پوری طرح اس کے ماتحت تھے اس کی اصلاح نہ ہو سکنا عقل کے بالکل خلاف ہے۔ میں اب اس امر کا ذمہ لینے کے لئے تیار ہوں کہ گورنمنٹ پندرہ میں سال تک ان علاقوں میں سے ایک علاقہ ہمارے سپرد کر کے دیکھ لے کہ ان کی اس قدر اصلاح ہو جاتی ہے یا نہیں کہ وہ باقی لوگوں کے ساتھ مل کر گزارہ چلانے کے قابل ہو جائیں۔ غرض میرے نزدیک ان لوگوں کی پچھلی کمزوری صرف اور صرف ان کو غیر ترقی یافتہ (BACK WARD قرار دینے کی وجہ سے ہے۔ جب تک پنجاب کو آئینی صوبہ قرار نہ دیا گیا تھا وہ بھی پچاس سالہ انتظار انتظام کے باوجو د سب صوبوں سے ' پیچھے تھا لیکن جو نہی اسے آئینی حکومت ملی دس بارہ سال کے عرصہ میں پنجاب کی حالت ہی بدل گئی ہے اور وہ اب کسی سے کم نہیں۔ تعلیم میں وہ کئی صوبوں سے آ۔ اسے آگے نکل چکا ہے۔ مادی ترقی میں بھی وہ چھلانگیں مارتا ہوا دوسرے صوبوں کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ پس صورت میں دوسرے صوبوں سے