انوارالعلوم (جلد 11) — Page 352
انوار العلوم جلدا ۳۵۲ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل حکومتیں ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں گی۔ ان علاقوں کے لحاظ سے جن میں مقامی حکومت نہ ہوگی فیڈرل اسمبلی مقامی حکومت کا رنگ رکھے گی اور ان علاقوں کے لحاظ سے جن میں مقامی حکومت ہوگی، وہ فیڈرل اسمبلی کی حیثیت رکھے گی پھر اس کے ممبروں کے انتخاب کے بھی سائمن رپورٹ کے مطابق مختلف طریق ہونگے ۔ صوبہ جاتی حکومتوں میں تو مقامی کونسلیں اس کے ممبر منتخب کریں گی اور غیر آئینی علاقہ کے لوگ براہ راست انتخاب کریں گے اور (غیر ترقی یافتہ علاقوں کے نمائندے خود گورنر جنرل منتخب کیا کریں گے یہ صورت بالکل غیر آئینی ہوگی اور اس سے فساد پیدا ہو گا۔ فیڈرل حکومت کا کوئی حصہ فیڈریشن سے آزاد نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ خاص ضرورتوں کے ماتحت کوئی حکومت نیا شہر بسا لے جس کے باشندے یہ جانتے ہوئے وہاں ہیں کہ ہمیں لوکل حکومت میں کوئی حق نہیں ملے گا۔ یا یہ کہ جو حصہ مقامی آزادی سے محروم ہو وہ فیڈرل حکومت کا حصہ ہی نہ ہو بلکہ اس کا ایک ماتحت علاقہ ہو جیسے کہ یونائٹیڈ سٹیٹس میں فلپائن ہے۔ ان دونوں صورتوں کے سوا کوئی حصہ ملک کا حقیقی فیڈرل حکومت میں مقامی آزادی سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ صرف اس لئے نہیں کہ یہ اس پر ظلم ہے بلکہ اس لئے بھی کہ یہ امر فیڈرل اسمبلی کو ایک جہت سے مقامی کونسل کی شکل دے دیتا ہے۔ جو فیڈرل اصول کے بالکل بر خلاف اور یو نیٹری اصول کے مطابق ہے۔ فیڈرل حکومت تبھی صحیح اصول پر چل سکتی ہے جب اس کے سب حصے برابر کی آزادی رکھتے ہوں۔ پس جب تک ہندوستان کی موجودہ تقسیم کو نہ بدلا جائے اس وقت تک فیڈرل نظام حکومت اس ملک میں صحیح طور پر جاری نہیں ہو سکتا اور صوبہ جات کا تغیر و تبدل صرف ایک سہولت کا ہی سوال نہیں بلکہ ایک اصولی سوال ہے اور اس وجہ سے اس سے زیادہ قابل توجہ ہے جس قدر توجہ کہ سائمن کمیشن نے اسے دی ہے۔ سائمن کمیشن کی رپورٹ یہ ہے کہ گورنروں کے صوبوں کے سوا باقی سب صوبوں کی باستثناء شمال مغربی سرحدی صوبہ کے وہی حالت رہے جو پہلے تھی اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کو بھی وہ ایک نیم آزادی حکومت دینا چاہتے ہیں لیکن اگر ان کی اس سفارش کو تسلیم کر لیا جائے تو کبھی بھی ہندوستان صحیح طور پر فیڈرل سسٹم کے اصول پر نشو و نما نہیں پا سکتا۔ تعجب ہے کہ وہ ایک طرف ان صوبوں کے موجودہ نظام کو خود ہی ناقص قرار دیتے ہیں پھر اس کے قیام کی بھی سفارش کرتے ہیں۔ قریباً ہر گورنر کے صوبہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی غیر ترقی یافتہ