انوارالعلوم (جلد 11) — Page 354
انوارالعلوم جلدا ۳۵۴ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کامل غیر ترقی یافتہ علاقوں کی آفت سے ہندوستان کو بچانے کا یہی واحد ذریعہ ہے کہ وہ علاقے جو غیر ترقی یافتہ کہلاتے ہیں انہیں بقیہ صوبوں کے ساتھ شامل کر دیا جائے۔ اگر ان کے رقبے بڑے ہوتے تو میں سمجھتا کہ خواہ کسی سبب سے بھی ان کی حالت خراب ہو ، لیکن جب حالت خراب ہو چکی ہے تو کیوں دوسرے صوبوں سے ملا کر انہیں بھی ان کی وجہ سے ان کی وجہ سے خراب کیا جائے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ صرف چھوٹے چھوٹے رقبے ہیں اور انہیں دوسری آبادی کے ساتھ باقاعدہ مدد دینے سے کوئی نقص پیدا نہیں ہو سکتا۔ وہ دوسرے لوگوں کو ترقی سے نہیں روکیں گے بلکہ ان سے مل کر خود ترقی کر جائیں گے اس لئے انہیں باقاعدہ طور پر آئینی حکومتوں کا جزو بنا دینا چاہئے۔ ہر صوبہ کی آئینی حکومتیں خود ہی اپنے قواعد کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی ترقی کا سامان پیدا کر لیں گی۔ زیادہ سے زیادہ اس امر کا انتظام کر دیا جائے کہ ان کی تعلیمی یا صنعتی ترقی کے لئے خاص افسر مقرر ہو جائیں اور خاص رقوم ان کے لئے صوبہ کے فنڈ سے الگ کر دی جایا کریں اس طرح دس پندرہ سال میں ان کی اصلاح ہو جائے گی۔ بہر حال ہندوستان کا حصہ ہوتے ہوئے انہیں الگ رکھنا ہندوستان کے نظام کو کمزور کرنا ہے۔ انہی غیر ترقی یافتہ علاقوں میں سے جزائر انڈمان کو بھی پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان میں چونکہ عمر قید کے سزا یافتہ رہتے ہیں اس وجہ سے ان جزائر کی بھی اصلاح نہیں ہو سکی۔ اب اس قانون کو موقوف کر دیا گیا ہے لیکن یہ دلیل بھی معقول نہیں۔ باوجود قیدیوں کے وہاں رہنے کے اس علاقہ کی اصلاح ہو سکتی تھی اور ہونی چاہئے تھی۔ قیدی صرف ایک محدود علاقہ میں رہتے تھے باقی علاقہ اسی طرح آزاد ہے۔ پس در حقیقت اس علاقہ کے غیر ترقی یافتہ رہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مدر اس گورنمنٹ جس کے ماتحت یہ علاقہ ہے اسے اپنے قریب کے زیادہ تعلیم یافتہ علاقوں کی وجہ سے اس طرف توجہ نہیں ہوئی اور یہ خدا کی مخلوق ڈیڑھ سو سال تک جہالت کے گڑھے میں گری رہی ہے۔ اب وقت ہے کہ انہیں دوسرے لوگوں کی طرح حقوق دے دیئے جائیں۔ اگر وہ آج ان حقوق کو پوری طرح استعمال نہ کر سکیں گے تو کل کریں ۔ وہ کونسا ملک ہے جس کے سب حصوں نے ایک ہی وقت میں یکساں طور پر آئینی حقوق سے فائدہ اٹھایا ہے۔ پس راستہ کھولنا ہمارا کام ہے فائدہ ہر ایک شخص اپنے ظرف کے مطابق حاصل کرے گا۔ اور راستہ کھلنے پر ہی دل میں نشوو نما کی بھی خواہش پیدا ہوگی۔ ہاں اگر کوئی خاص خطرہ ہو تو بعض حفاظتی تدابیر سے اس کا علاج تجویز کر لیا جائے۔ گے ہے