انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxv of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxv

انوار العلوم جلد ؟ १८ تعارف کتب عرفان حاصل تھا۔ اب وہی شخص عرفان الہی حاصل کر سکتا ہے جو مکمل طور پر آنحضرت ملی یم کی اطاعت اور پیروی کرے۔ (۱۵) امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت ۱۹۳۰ء میں جماعت احمد یہ صوبہ بنگال کے عہدیداروں میں اختلاف کی وجہ سے جماعتی کام میں نقص پیدا ہونے لگا۔ اس پر حضور نے صوبہ کے آئندہ نظام کے بارہ میں احباب جماعت بنگال سے مشورہ طلب کیا۔ حصولِ مشورہ کے بعد آپ نے یہ فیصلہ تحریر فرمایا۔ ابتداء حضور نے منصب امارت کی وضاحت فرمائی نیز نظام جماعت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات بیان فرمائے۔ اس کے بعد تحریر فرمایا :۔ " صرف ایک ہی نظام ہے جو صوبہ جات میں قائم کیا جا سکتا ہے اور وہ وہ نظام ہے جو باوجود صوبہ جاتی نظام کے تمام افراد اور جماعتوں کا تعلق مرکز سے قائم رکھے اور ایسا نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں ایک تو امیر ہو جو خلیفہ کا نائب ہو ۔ جس کا فرض ہو کہ وہ دیکھے کہ ایک طرف تو صوبہ یا ملک کی جماعت خلیفہ اور صدر انجمن احمد یہ کے احکام کی پیروی کرتی ہے اور دوسری طرف یہ دیکھے کہ صوبہ جات کی اکثریت کی طے کردہ پالیسی پر اس کے مقامی معمال عمل کرتے ہیں؟ گویا ایک طرف اس کا فرض ہے کہ صوبہ میں مرکز کے احکام کی پابندی کرائے اور دوسری طرف اس کا فرض ہے کہ یہ دیکھے کہ صوبہ کے تعمال صوبہ کی جماعت کی اکثریت کے تابع چلتے ہیں اور اپنے فرائض کو خود سری سے نظر انداز نہیں کرتے اور اسلامی مساوات اور جمہوریت کی روح کو کچلتے نہیں۔ تیسری طرف یہ دیکھنا بھی اس کا فرض ہے کہ اکثریت اسلام کے منشاء کے خلاف تو نہیں چلتی اور اگر ایسا نظر آئے تو وہ اس کی اصلاح کر کے خلیفہ وقت کے پاس رپورٹ کرے۔“ حضور فرماتے ہیں کہ امارت کا نظام خلافت کے ماتحت بهترین نظام ہے جسے اگر صحیح طور پر چلایا جائے تو تمام ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ مقامی کام بھی اچھے طریق پر چلتے ہیں اور مرکزی بھی۔