انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxiv
انوار العلوم جلد !! 14 تعارف کتب وو (۱۴) عرفان الهی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ جس پر رسول کریم دنیا کو قائم کرنا چاہتے تھے جب ہندؤوں کی طرف سے آنحضرت میں ایم کے متعلق انتہائی دل آزار کتب رنگیلا رسول" اور رسالہ " ورتمان " وغیرہ شائع ہوئیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے القاء کے ماتحت ۱۹۲۷ء میں حضرت مصلح موعود نے جلسہ ہائے سیرۃ النبی مسلم کی تحریک جاری فرمائی تاکہ ہندوستان بھر میں جگہ جگہ ایک ہی دن جلسے منعقد کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کی جائے۔ آپ نے فرمایا :۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی جرأت اس لئے ہوتی ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے صحیح حالات سے ناواقف ہیں یا اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ ناواقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھی لیکچر دیئے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالاتِ زندگی اور آپ کی پاکیزگی سے آگاہ ہو جائے اور کسی کو آپ کے متعلق زبان درازی کی جرأت نہ رہے"۔ ( تقریر جلسه سالانه ۱۹۲۷ء) حضور کی یہ با برکت تحریک بفضل خدا بہت کامیاب ہوئی اور مسلمان ملک بھر میں مقررہ تاریخ پر ہر سال جلسوں میں آنحضرت میں تعلیم کی پاک سیرت بیان کرنے لگے۔ اس تحریک کے مطابق ۱۹۳۰ء میں ” سیرۃ النبی" کے جلسوں کیلئے ۲۶۔ اکتوبر کا دن مقرر ہوا۔ چنانچہ اُس دن قادیان میں جو جلسہ منعقد ہوا اس میں حضور نے یہ تقریر فرمائی اور عرفان الہی اور محبت باللہ کا وہ " بلند مقام بیان فرمایا جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو قائم کرنا چاہتے تھے۔ حضور نے عرفان الہی کے پانچ مقام بیان کر کے فرمایا کہ ان کے حصول کیلئے اللہ تعالی نے یہ طریق رکھا ہے کہ ہم رسول کریم میں اللہ کی مکمل پیروی کریں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کا کامل