انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxvi
انوار العلوم جلد ! VI تعارف کتب (۱۶) ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل سائمن کمیشن کی رپورٹ چھپنے کے کچھ دیر بعد حکومت برطانیہ نے لندن میں گول میز کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ ہندوستان کے سیاسی ارتقاء کے مختلف پہلوؤں پر غور کر کے آئندہ کیلئے لائحہ عمل تجویز کیا جائے ۔ چونکہ سائمن کمیشن نے مسلمانوں کے حقوق کو پوری طرح مد نظر نہیں رکھا تھا اس لئے حضور کو تشویش تھی اور آپ چاہتے تھے کہ آئندہ مسلمانوں کے حقوق کو نظر انداز نہ کیا جائے اس لئے حضور نے مناسب سمجھا کہ اس موقع پر سائمن کمیشن رپورٹ پر تبصرہ کر کے اس کے نقائص واضح کئے جائیں اور ہندوستان کے مسائل کا ایسا حل پیش کیا جائے کہ آئندہ زمانہ میں سب قومیں صلح و آشتی سے بامن زندگی گزار سکیں۔ چنانچہ حضور فرماتے ہیں:۔ میں سمجھتا ہوں کہ گو ایک مذہبی آدمی ہونے کے لحاظ سے مجھے سیاست ملکی سے اس قدر تعلق نہیں ہے جیسا کہ ان لوگوں کو جو رات دن انہی کاموں میں پڑے رہتے ہیں۔ لیکن اسی قدر میری ذمہ داری صلح اور آشتی پیدا کرنے کے متعلق زیادہ ہے اور نیز میں خیال کرتا ہوں کہ شورش کی دنیا سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے میں شاید کئی امور کی تہہ کو زیادہ آسانی سے پہنچ سکتا ہوں بہ نسبت ان لوگوں کے کہ جو اس جنگ میں ایک یا دوسری طرف سے شامل ہیں۔ پس اس وقت جب کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے اعلان کی وجہ سے لوگوں کی توجہات مسئلہ ہندوستان کے حل کرنے میں لگی ہوئی ہیں میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنے خیالات دونوں ملکوں کے غیر متعصب لوگوں کے سامنے رکھ دوں"۔ حضور نے اپنے تبصرہ میں مسلمانوں کے حقوق اور مطالبات پر سیر حاصل بحث کی اور ان کی معقولیت کو اُجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے ہندوستان کے سیاسی مسائل کا نہایت معقول اور تسلی بخش حل پیش کیا۔ اس کے جامع و مانع تبصرہ کا انگریزی ایڈیشن فور ا شائع کر کے انگلستان پہنچا دیا گیا تا کہ گول میز کانفرنس میں شامل ہونے والے اسے پڑھ کر فائدہ اُٹھا سکیں۔ مسلمان نمائندوں کو خاص طور پر اس سے فائدہ پہنچا۔ چنانچہ انہوں نے پہلی بار متفقہ طور پر