انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxii

انوار العلوم جلد 11 لوگ خوش دلی سے قبول کرلیں ۔ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں حضور نے فرمایا :۔ ”میرے نزدیک آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے لئے کام کا وقت ابھی آیا ہے۔ خالی اس امر کو شائع کر دینا کہ مسلمانوں کے یہ مطالبات ہیں کافی نہیں ہے۔ اگر ایسے لوگ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں گئے جنہوں نے ان مطالبات کو پسِ پشت ڈال دیا تو آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلہ کی قیمت کچھ بھی باقی نہیں رہتی۔ پس یہی وقت ہے کہ وہ ایک طرف گورنمنٹ کو غلط انتخاب کے بد نتائج سے آگاہ کرے اور دوسری طرف پبلک کو اس کے خطرات سے واقف کرے۔ اور اُس وقت تک آرام نہ لے جب تک مسلمانوں کی نمائندگی کا فیصلہ مسلمانوں کے منتخب نمائندوں اور ان کی اہم سیاسی انجمنوں کے ذریعہ نہ ہو۔" (۱۳) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک علم کی حیثیت میں عارف کتب یہ ایک حقیقت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہر حیثیت میں سب سے بلند و بالا ہے۔ اس مضمون میں حضور نے بیان فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ملہم ہونے کی حیثیت میں بھی سب انبیاء سے افضل ہیں۔ علم کی حیثیت کا اندازہ اس کلام سے ہوتا ہے جو اس پر خدا تعالی کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کلام دیا گیا یعنی قرآن مجید وہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ دوسرے مذاہب کی کتب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں نہ ان کی حفاظت کا کوئی وعدہ تھا اور نہ وہ عملاً محفوظ رہیں۔ لیکن قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ خدا تعالی نے خود فرمایا اور وہ اب تک اسی طرح محفوظ ہے جس صورت میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ دشمنوں کو بھی اس کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہیں۔ چنانچہ سرولیم میور اپنی کتاب ”دی قرآن" میں لکھتے ہیں:۔ ” یہ تمام ثبوت دل کو پوری تسلی دلا دیتے ہیں کہ وہ قرآن جسے ہم آج پڑھتے ہیں لفظ لفظ وہی ہے جسے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔" پس قرآن کریم ایک منفرد اور ا افضل کتاب ہے اس طرح وہ رسول جس پر یہ کتاب