انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page xxi

انوار العلوم جلد !! ١٣ تعارف ب ہوئی وہاں نہرو کمیٹی کو بھی مسلمانوں کی اشک شوئی کیلئے اپنی رپورٹ کی بعض شقوں میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی جسے انہوں نے تمہ نہرو رپورٹ کی صورت میں شائع کیا۔ حضور نے اس کا بروقت جائزہ لیا اور ان کی اصلاح شدہ جن شقوں کا تعلق مسلمان قوم سے تھا ان پر مندرجہ بالا عنوان کے ماتحت ایک مختصر اور جامع تبصرہ فرمایا۔ آپ نے تعلیم ، اجاره زمین سرکاری زبان قانون سازی اور فرقہ وارانہ انتخاب وغیرہ کے بارہ میں نہرو کمیٹی کی تمہ رپورٹ پر زبردست تنقید فرمائی اور آخر میں مسلمانوں اور برطانوی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے واضح الفاظ میں فرمایا۔ سے ان ”میں پھر مسلمان پبلک اور اپنے ماوراء البحر کے رہنے والے انگریز بھائیوں اپیل کروں گا کہ وہ اس رپورٹ کو سمجھے بغیر اس کی تائید نہ کریں۔ انگریزوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کی قوم بے شک اس وقت ہندوستان کی حاکم ہے لیکن وہ اس کی مالک نہیں ہے وہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ہندوؤں کا غلام بنا دینے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔" (11) گول میز کانفرنس اور مسلمانوں کی نمائندگی حکومت برطانیہ کے قائم کردہ سائمن کمیشن کی رپورٹ اہل ہند کی توقعات پر پوری نہ اُتری اس لئے وہ انہیں قابل قبول نہ تھی۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے گول میز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان ہوا تاکہ برطانیہ اور ہندوستان کے نمائندگان ایک جگہ جمع ہو کر ہندوستان کے سیاسی ارتقاء کے بارہ میں غور و فکر کر سکیں۔ اس موقع پر حضور نے مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے فوری طور پر یہ مضمون تحریر فرمایا اور انہیں نصیحت کی کہ وہ باہمی تفرقہ اور اختلافات کو ترک کر دیں اور قومی مفاد کی خاطر اتفاق اور اتحاد سے کام کریں۔ صرف اسی طریق پر وہ مخالف قوم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ کانفرنس میں ایسے نمائندے جائیں جو قوم کی نمائندگی کا حق ادا کر سکیں۔ حضور نے اس موقع پر گورنمنٹ کو بھی مشورہ دیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے مشورہ سے نمائندوں کا انتخاب کرے تاکہ کانفرنس کے فیصلوں کو