انوارالعلوم (جلد 11) — Page 132
انوار العلوم جلد 1 ۱۳۲ فضائل القرآن (۲) مسلمانوں پر رعب چھا جانا تھا اور ایسے علوم نکل آئے تھے جن کی وجہ سے اسلام پر حملہ کیا جاتا اس لئے خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم اس وقت بھی اپنی صفات عزیز اور حکیم کا اظہار کریں گے اور مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلہ میں غلبہ دیں گے۔ اور ان علوم کا بھی رد کریں گے جو قرآن کے مقابلہ پر آئیں گے۔ کیونکہ اصل غلبہ اللہ تعالیٰ کو ہے اور علوم اس کے بھیجے ہوئے ہیں۔ پس وہ باوجود ان فتن کے رسول کریم میں تعلیم کی تعلیم کو دوبارہ دنیا میں قائم کر دے گا۔ غرض ان الفاظ کا تکرار صرف مقفی عبارت کیلئے نہیں بلکہ عین اس ترتیب کے ماتحت ہے جس کی یہاں ضرورت تھی۔ (۵) پھر قرآن کریم کی ایک ظاہری خوبی اس کے الفاظ کا قرآنی آیات کا لطیف توازن لطیف توازن ہے کہ بظاہر نشر ہے مگر نظم کے مشابہ ہے اور یہ امر اس کی عبارت کو ایسا خوبصورت بنا دیتا ہے کہ کوئی اور کتاب اب تک اس کی نقل نہیں کر سکی خواہ وہ ناقص نقل ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بھی قرآن کریم کی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ چونکہ قرآن کریم حفظ کیا جانا تھا اس لئے ضروری تھا کہ یا تو اشعار میں ہوتا یا اشعار سے ملتا جلتا ہوتا۔ قرآن کریم کو خدا تعالیٰ نے ایسے انداز میں رکھا کہ جس قدر جلدی یہ حفظ ہو سکتا ہے اور کوئی کتاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ توازن الفاظ ہی ہے اور پڑھتے وقت ایک قسم کی ربودگی انسان پر طاری ہو جاتی ہے۔ (۶) چھٹی خوبی قرآن کریم کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں ذکر الہی کی کثرت کے ذکر کی اس میں اتنی کثرت ہے کہ جب انسان قرآن کھولتا ہے تو اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارے کا سارا قرآن ہی خدا تعالیٰ کے ذکر سے پر ہے۔ چنانچہ مکہ کے کئی مخالف جو سخت دشمن ہوا کرتے تھے جب کبھی رسول کریم میں ایم کی مجلس میں بیٹھ جاتے تو کہتے وہاں تو اللہ تعالیٰ کا ہی ذکر ہوتا رہتا ہے۔ غرض قرآن کریم نے اس طرح عظمت الہی کو بار بار بیان کیا ہے کہ انسان اس امر کو محسوس کئے بغیر نہیں رہتا۔ اور ہر خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والا دل اس کثرت سے ذکر الہی کو دیکھ کر باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے۔ محمد کے متعلق خواہ کچھ کہو لیکن اس کے کلام میں خدا ہی خدا کا ذکر ہے۔ وہ جو بات پیش کرتا ہے اس میں خدا کا ذکر ضرور لاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کا عاشق ہے۔ یہ مخالفین کی قرآن کریم کے متعلق گواہی ہے کہ وہ ذکر الہی سے بھرا ہوا