انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 131

انوار العلوم جلد 1 ۱۳۱ فضائل القرآن (۲) وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ - ان کو کتاب سکھائے۔ یہ سیدھی بات ہے کہ کوئی بات وہی سکھا سکتا ہے جس کے شاگرد ہوں۔ چونکہ عزیز کے معنی غالب کے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں یہ رکھا کہ اس رسول کو ہم ایک جماعت دیں گے جسے یہ سکھائیگا اور اسے دنیا پر غلبہ بخشے گا۔ کیونکہ میں اسے اپنی صفت عزیز کے ماتحت بھیج رہا ہوں۔ چوتھی صفت الْحَكِيمِ بیان کی تھی۔ اس کے متعلق فرمایا وَ الْحِكْمَةَ کہ وہ حکمت سکھائے گا۔ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْن اور گو اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے مگر پھر بھی یہ رسول اس کتاب کو منوا لے گا۔ اس کے بعد فرمایا وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ۔ یہ رسول کچھ اور لوگوں کو بھی سکھائے گا جو ابھی ان سے نہیں ہے۔ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ قرآن کی عبارت تو مقفی بتائی جاتی ہے لیکن یہ ترتیب کیسی ہے کہ انہیں الفاظ کو پھر دہرا دیا گیا ہے جو پہلے آچکے ہیں اور بغیر ضرورت کے صرف قافیہ بندی کے لئے لائے گئے ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ یہی الفاظ آنے چاہئیں تھے۔ اس کی وجہ ہے کہ جب کہا گیا وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کہ یہ رسول ایک اور جماعت کو بھی سکھائے گا جو ان لوگوں سے نہیں ملی تو گویا بتایا کہ ان لوگوں میں اور اس جماعت میں ایک وقفہ ہو گا۔ اور دوسرے لوگ کچھ مدت کے بعد آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک عرصہ گزرنے کے بعد مسلمانوں میں سے قرآن مٹ جائیگا اور پھر بعد میں آنے والوں کو سکھایا جائے گا۔ ورنہ اگر وقفہ نہیں پڑتا تھا تو یہ بات بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ پیچھے آنے والے آخر پہلوں سے ہی سیکھا کرتے ہیں۔ اس کے ذکر کی یہی وجہ ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا تھا جس میں قرآن دانی مٹ جانی تھی۔ اور پھر محمد رسول اللہ میں ایم کے ذریعہ دنیا کو قرآن سکھایا جانے والا تھا۔ اب یہ صاف بات ہے کہ درمیانی وقفہ کسی نقص کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے۔ اور اس نقص کے ازالہ سے ہی اس امر کو دوبارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ پس دوبارہ عَزِيز وَ حَكِيمٍ کہ کر بتایا کہ یہ وقفہ دشمنان اسلام کے غلبہ ظاہری اور ان کی علمی اور فلسفی اور سائنس کی ترقی کی وجہ سے ہوگا۔ اور مسلمان ان سے متأثر ہو کر قرآن کو چھوڑ دیں گے۔ مگر پھر خدا تعالیٰ ان کو غلبہ عطا فرمائے گا۔ کیونکہ وہ عزیز ہے۔ چونکہ دوسروں کو حکومت ملنی تھی اور اس سے